بائیو ایشیا کانفرنس کا افتتاح ۔ چیف منسٹر کا خطاب ۔ ورلڈ اکنامک فورم کے نمائندوں سے تبادلہ خیال
حیدرآباد۔27فروری(سیاست نیوز) تلنگانہ سرمایہ کاری کیلئے انتہائی موزوں ریاست میں تبدیل ہوچکی ہے اور دنیا کے مختلف ممالک تلنگانہ میں سرمایہ کاری کر رہے ہیں ۔ ریاست میں کانگریس نے اقتدار سنبھالنے کے بعد ریاست کی ترقی کو نئی جہت عطا کرکے بیرونی سرمایہ کاری کے مرکز میں تبدیل کیا ہے ۔ چیف منسٹر ریونت ریڈی نے بائیو ایشیاء 2024 کانفرنس میں مختلف ممالک کے نمائندوں اور ورلڈ اکنامک فورم کے ذمہ داروں سے ملاقات میں یہ بات کہی۔ انہوں نے بتایا کہ تلنگانہ فارما شعبہ کے علاوہ آئی ٹی شعبہ میں سرفہرست مقام حاصل کرچکا ہے اور دیگر شعبوں میں ترقی کے اقدامات کئے جارہے ہیں۔ انہو ںنے مغربی آسٹریلیاء کے وزیر صحت مسز جیڈ سنڈرسن سے ملاقات میں کہا کہ ریاست میں حکومت سے ہیلت ٹورازم کے فروغ کے اقدامات کئے جا رہے ہیں اور ان کے تحت حکومت نے تلنگانہ کے شہری اور دیہی علاقوں میں شعبہ صحت کو بہتر بنانے پر توجہ کی ہے ۔ انہو ںنے سنڈرسن کو مشورہ دیا کہ وہ شعبہ صحت میں سرمایہ کاری پر توجہ مرکوز کریں تاکہ اس کو مزید مستحکم بنایا جاسکے۔ چیف منسٹر نے بتایا کہ حکومت نے دارالحکومت حیدرآباد کو امن و امان کا گہوارہ بنایا ہے اور نظم و نسق پر گرفت کو مضبوط کرکے سرمایہ کاروں کیلئے محفوظ مقام میں تبدیل کیا ہے۔ انہو ںنے کہا کہ کانگریس کے اقتدار حاصل کرنے کے بعد ریاست میں فارما صنعت کو فروغ حاصل ہونے لگا ہے۔ حکومت شہریوں اور سرمایہ کاروں کی سہولت کیلئے بہتر ٹرانسپورٹ نظام کے فروغ دے رہی ہے۔ انہوں نے سرمایہ کاروں کو مشورہ دیا کہ وہ شہر کے نواحی علاقوں میں سرمایہ کاری کے ساتھ ریاست کے ٹائیر ۔IIشہروں میں بھی سرمایہ کاری کی منصوبہ بندی کریں۔ مسز سنڈرسن نے بتایا کہ آسٹریلیاء نے ابتدائی طور پر شہر میں سرمایہ کاری کیلئے اپنے دفتر کا قیام عمل میں لایا ہے اور وہ صحت کے شعبہ میں سرمایہ کاری کیلئے منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔ چیف منسٹر نے منیجنگ ڈائرکٹرورلڈ اکنامک فورم جیرمی جرگنس سے ملاقات میںکہا کہ تلنگانہ کی سرزمین انتہائی زرخیز ہے اور اس میں 26 اقسام کی فصل کی صلاحیت ہے۔ انہوں نے زرعی شعبہ میں سرمایہ کاری کے مواقع کے متعلق بات چیت میںکہا کہ ریاست میں مستقبل قریب میں آرگانک اشیاء کی مانگ میں اضافہ کا امکان ہے اسی لئے اس کی ترقی اور نامیاتی پیداوار کے فروغ سے اس کو پورا کیا جاسکتا ہے۔ ریونت ریڈی نے بتایا کہ حکومت سے زرعی شعبہ کی ترقی کیلئے بھی متعدد اقدامات کئے جا رہے ہیں۔ چیف منسٹر نے بلجیم کے سفیر ڈیڈر وانڈر ہساک سے ملاقات کرکے بلجیم کی تلنگانہ میں سرمایہ کاری کی تجاویز کے متعلق تفصیلات حاصل کیں اور کہا کہ گرین ہائیڈروجن شعبہ و دیگر صنعتوں میں سرمایہ کاری کے مواقع ہیں علاوہ ازیںسیمی کنڈکٹر کی تیاری کی صنعت میں بھی تلنگانہ تیز رفتار ترقی کی راہ پر ہے۔ چیف منسٹر نے بتایا کہ سرمایہ کاری کے فروغ کیلئے حکومت کے اقدامات میں ریجنل رنگ روڈ کی اندرون تین برس تعمیر کا منصوبہ بھی شامل ہے اور آلودگی سے پاک فارما کلسٹرس کی تیاری کو بھی یقینی بنانے اقدامات کئے جا رہے ہیں۔ اس موقع پر چیف منسٹر کے ساتھ وزیر انفارمیشن ٹکنالوجی و صنعت ڈی سریدھر بابو کے علاوہ صنعت و آئی ٹی عہدیدار موجود تھے۔ چیف منسٹر نے ان ملاقاتوں سے قبل بائیو ایشیاء کانفرنس کی افتتاحی تقریب سے خطاب میں کہا کہ حکومت سے 300 ایکڑ پر محیط جینوم ویلی دوسرے مرحلہ کے آغاز کے اقدامات کئے جا رہے ہیں ۔ انہوں نے بتایا کہ2000 کروڑ کی سرمایہ کاری سے اس منصوبہ کی تکمیل پر تلنگانہ کے 5لاکھ نوجوانوں کو ملازمتوں کی فراہمی کا امکان ہے۔اس کے علاوہ اس گرین فیلڈ فارما کلسٹر میں ایک لاکھ کروڑ سے زائد کی سرمایہ کاری کا امکان ہے۔ چیف منسٹر نے کورونا دور میںتلنگانہ سے دنیا کو ٹیکوں کی سربراہی کاتذکرہ کیا اور کہا کہ تلنگانہ نے دنیا کو اپنی صلاحیتوں سے واقف کروایا ہے اور جلد ہی گرین فیلڈ فارما کلسٹر کے قیام کے اقدامات کئے جائیں گے ۔ انہوںنے بتایا کہ حکومت سے شہریوں کی ڈیجیٹل ہیلت پروفائیل کی تیاری کی جا رہی ہے اور اس پراجکٹ پر کام کا آغاز ہوچکا ہے ۔ 3