وزیر اعظم مودی کو وداع کرتے ہوئے ریونت ریڈی نے ریاست کے مطالبات کی فہرست تھمائی ۔ کئی پراجیکٹس اور ترقیاتی کاموں کی نشاندہی
حیدرآباد 5 مارچ (سیاست نیوز) چیف منسٹر ریونت ریڈی نے وزیر اعظم نریندر مودی کو بیگم پیٹ سے وداع کرتے ہوئے اپنے مطالبات کی طویل فہرست تھمائی اور خواہش کی کہ تلنگانہ کی ترقی میں مرکزی حکومت تعاون کرے ۔ تلنگانہ میں آئی آئی ایم کو منظوری کے علاوہ حیدرآباد میٹروریل کے توسیعی کاموں میں مرکز اپنا حصہ ادا کرے۔ چیف منسٹر نے وزیر اعظم کے دورہ کے اختتام پر ملاقات کرکے تلنگانہ کے حل طلب مسائل کو پیش کیا اور کہا کہ انہیں امید ہے کہ مرکزی حکومت ان مطالبات کو پورا کرکے تلنگانہ کی ترقی کو یقینی بنانے میں تعاون کرے گی۔ انہوں نے بتایا کہ این ٹی پی سی پلانٹ کے ذریعہ 4000 میگاواٹ برقی پیداوار کی گنجائش ہے لیکن تاحال اس پراجکٹ کے ذریعہ 1600 میگاواٹ برقی سربراہ کی جا رہی ہے جبکہ مزید 2400 میگاواٹ برقی پیداوار کی گنجائش ہے لیکن اس کی اجازت نہیں دی گئی ۔ انہوں نے مرکزسے خواہش کی کہ وہ این ٹی پی سی پلانٹ کے ذریعہ اضافی پیداوار کی اجازت کو یقینی بنائے۔ انہوں نے بتایا کہ ریاستی حکومت سے درکار تمام اجازت نامو ںکو یقینی بنایا جائے گا۔ چیف منسٹر نے کہا کہ پڑوسی مہاراشٹراتمیڈیٹی لفٹ ایریگیشن پراجکٹ کی تعمیر کیلئے تیار ہے اگر مرکزی حکومت سے پانی کی تقسیم کے مسئلہ کو حل کیاجاتا ہے تو یہ دیرینہ مسئلہ بھی حل کرلیا جائے گا۔ انہوں نے ریاست میں سیمی کنڈکٹر یونٹس کی تیاری کے مراکز کے قیام کی اپیل کی اور کہا کہ تلنگانہ نے دیگر ریاستوں میں سرمایہ کاری کیلئے تلنگانہ کو بہترین مرکز کے طور پر پیش کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے اور حکومت الکٹرانک پارک کی تعمیر کے اقدامات کرچکی ہے ۔انہوں نے بتایا کہ الکٹرانک مصنوعات کی تیاری کے شعبہ میں ریاست کو بہترین سرمایہ کاری ملنے لگی ہے اور انہیں امید ہے کہ مرکزی حکومت سیمی کنڈکٹر کی تیاری میں تعاون کرکے نئے دور کی ٹکنالوجی میں ریاست کی ترقی کیلئے راہ ہموار کرے گی۔ وزیر اعظم مودی کو وداع کرنے والوں میں گورنر ڈاکٹر ٹی سوندراراجن‘ چیف منسٹر ریونت ریڈی ‘ وزیر ٹرانسپورٹ پونم پربھاکر و دیگر شامل تھے ۔ چیف منسٹر نے تلنگانہ میں اضلاع کی تنظیم جدیدکے بعد درکار آئی پی ایس عہدیداروں کیلئے بھی درخواست پیش کی اور کہا کہ آئی پی ایس عہدیداروں کی قلت سے ریاست کو مسائل کا سامنا ہے اسی لئے مرکز فوری 29 اضافی عہدیداروں کے تقرر کو یقینی بنائے تاکہ ان عہدوں پر آئی پی ایس تقررات کو یقینی بنایا جاسکے جن پر ان کی خدمات درکار ہے۔ انہو ںنے بتایا کہ مرکز کی جانب سے 2016 میں 76 آئی پی ایس عہدیداروں کے تقررات کو منظوری دی گئی تھی اس کے بعد کوئی اضافہ نہیں کیاگیا۔ ریونت ریڈی نے ریاست میں آئی آئی ٹی باسر‘ نلسار یونیورسٹی ‘ سنٹرل یونیورسٹی کے حوالہ دئے اور کہا کہ مرکزسے اعلان کے مطابق تمام ریاستوں میں آئی آئی ایم کومنظوری دی جائے ۔ انہوں نے بتایا کہ ریاستی حکومت انڈین انسٹیٹیوٹ آف مینجمنٹ کے قیام کیلئے اراضی کی فراہمی کیلئے تیار ہے ۔ انہو ں نے آیوشمان بھارت اسکیم پر عمل سے واقف کروایا اور کہا کہ ریاست میں 5ہزار 259 آیوشمان ہیلت مراکز کارکرد ہیں اور 2023-24 کا اگر جائزہ لیا جائے تو مرکز سے ریاست کو 347.54 کروڑ بقایا جات وصول طلب ہیں ۔ چیف منسٹر نے مودی سے خواہش کی کہ وہ بقایاجا ت کی اجرائی کیلئے ہدایات جاری کریں تاکہ ریاست کو مرکز کا حصہ حاصل ہوسکے ۔ انہو ںنے وزیر اعظم کو مختلف شاہراہوں کی توسیع اور امرآباد جنگلات سے سری سیلم کیلئے راستہ کی نکاسی پر توجہ دلانے کے علاوہ قبائیلی علاقوں میں پینے کے صاف پانی کی سربراہی کو قریبی ذخائر آب کے ذریعہ ممکن بنانے متوجہ کروائی ۔ 8 پراجکٹ جن سے تلنگانہ کو ترقی کی راہ پر گامزن کیا جاسکتا ہے انکے متعلق مکتوبات نمائندگی حوالہ کئے اور کہا کہ اگر مرکز سے ان کو منظور کیاجاتا ہے تو ریاست کی ترقی کی راہ ہموار ہوگی۔3