تلنگانہ میں اقلیتوں کیلئے 204 اقامتی اسکولس

   

83 اسکولوں کو جونیر کالجس کا درجہ، وزیر اقلیتی بہبود ایشور کا بیان
حیدرآباد۔ وزیر اقلیتی بہبود کے ایشور نے اسمبلی کو بتایا کہ حکومت نے اقلیتوں کی تعلیمی ترقی کیلئے 204 اقامتی اسکول قائم کئے جہاں ایک لاکھ سے زائد طلبہ کو کارپوریٹ تعلیم مفت دی جارہی ہے۔ اقامتی جونیر کالجس کے قیام سے متعلق سوال پر کے ایشور نے کہا کہ حکومت تمام طبقات کی یکساں ترقی کی پابند ہے اور ہر طبقہ کیلئے اقامتی اسکولس کا قیام عمل میں لایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ اقامتی اسکولوں میں انگلش میڈیم کے ساتھ معیاری تعلیم کا انتظام کیا گیا ہے۔ چیف منسٹر کے سی آر نے تعلیم کے فروغ پر خصوصی توجہ مرکوز کی ہے۔ انہوں نے اقامتی اسکولوں کی کارکردگی پر اطمینان کا اظہار کیا۔ وزیر اقلیتی بہبود نے بتایا کہ اقامتی اسکولوں میں بہتر سہولتیں فراہم کی گئی ہیں اور معیاری تعلیم کے نتیجہ میں بہتر نتائج ملے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ اقامتی اسکولس اپنے معیار کے اعتبار سے کارپوریٹ اداروں کو پیچھے چھوڑ چکے ہیں۔ انہوں نے حکومت کے اقامتی اسکولوں کو ملک میں مثالی قرار دیا۔ ایشور نے بتایا کہ 2018-19 میں 12 اسکولوں کو جونیر کالجس میں اَپ گریڈ کیا گیا جبکہ 2020-21 میں71 اقامتی اسکولوں کو جونیر کالجس کا درجہ دیا گیا ۔ انہوں نے بتایا کہ 2016-17 اور 2017-18 میں 133 اقامتی اسکولس قائم کئے گئے۔107 اسکولس لڑکوں کیلئے ہیں جبکہ لڑکیوں کیلئے 97 اسکولس قائم کئے گئے۔ انہوں نے کہا کہ 30560 طلبہ کو مفت تعلیم کا انتظام ہے۔ طلبہ کو کتب کے علاوہ تغذیہ بخش غذا دی جارہی ہے۔ 7570 عملے کو اسکولوں میں تعینات کیا گیا ہے۔