سپریم کورٹ فیصلہ سے تلنگانہ کی امیدیں، مسلم تحفظات کے حق میں عدالت عظمیٰ کے فیصلہ پر پُرامید
حیدرآباد۔/8نومبر،( سیاست نیوز) چیف منسٹر چندر شیکھر راؤ نے معاشی پسماندہ طبقات کیلئے 10فیصد تحفظات کے حق میں سپریم کورٹ کے فیصلہ کے بعد تلنگانہ میں تحفظات میں اضافہ کی راہ میں رکاوٹ دور ہونے پر مسرت کا اظہار کیا ۔ سپریم کورٹ نے مرکزی حکومت کی جانب سے فراہم کردہ 10 فیصد تحفظات کی برقراری کے حق میں کل فیصلہ سنایا تھا۔ تلنگانہ حکومت ایس ٹی طبقہ کے موجودہ 6 فیصد تحفظات کو 10 فیصد کرنے حال میں جی او جاری کرچکی ہے۔ سپریم کورٹ فیصلہ کے بعد چیف منسٹر نے پارٹی قائدین کے ساتھ اجلاس میں کہا کہ تلنگانہ میں ایس ٹی طبقہ کے تحفظات میں اضافہ کی راہ ہموار ہوچکی ہے۔ حکومت نے ایس ٹی و مسلم طبقات کے تحفظات میں اضافہ کے حق میں اسمبلی میں قرارداد منظور کرکے مرکز کو روانہ کیا تھا لیکن مرکزی حکومت نے آج تک منظوری نہیں دی۔ حکومت نے ایس ٹی طبقہ کے موجودہ 6 فیصد تحفظات کو بڑھاکر 10 فیصد کرنے کیلئے سرکاری احکام جاری کئے۔ اب جبکہ سپریم کورٹ نے مرکزی حکومت کے اضافی تحفظات کو برقرار رکھا ہے لہذا چیف منسٹر کو امید ہے کہ تلنگانہ میں مجموعی تحفظات کے 50 فیصد سے تجاوز کرنے پر کوئی قانونی پیچیدگی پیدا نہیں ہوگی۔ ذرائع کے مطابق چیف منسٹر نے یاد دلایا کہ وہ ابتداء ہی سے تحفظات میں اضافہ کے اختیارات ریاستوں کے حوالے کرنے کا مطالبہ کررہے ہیں۔ ریاستوں کو آبادی کے تناسب سے تحفظات میں اضافہ کا حق ملنا چاہیئے۔ انہوں نے 15 مارچ 2017 کو اسمبلی میں بیان دیتے ہوئے مرکزی سے مطالبہ کیا تھا کہ آبادی کے اعتبار سے تحفظات کی فراہمی میں رکاوٹ پیدا نہ کی جائے۔ سپریم کورٹ نے مجموعی تحفظات 50 فیصد ہونے کی حد مقرر ضرور کی لیکن اضافہ کی صورت میں مناسب وجوہات پیش کرنے کی ہدایت دی ہے۔ نویں شیڈول میں تحفظات کو شامل کرتے ہوئے ٹاملناڈو میں مجموعی تحفظات 69 فیصد تک ہوچکے ہیں۔ جب ٹاملناڈو 50 فیصد سے تجاوز کے باوجود تحفظات پر عمل کرسکتا ہے تو پھر تلنگانہ حکومت بھی ایس ٹی تحفظات پر کسی رکاوٹ کے بغیر عمل کرسکتی ہے۔ واضح رہے کہ ٹی آر ایس حکومت نے اسمبلی میں مسلم تحفظات کے فیصد میں اضافہ کی قرارداد منظور تو کی لیکن سپریم کورٹ میں 4 فیصد مسلم تحفظات کے مسئلہ پر مقدمہ زیر التواء ہونے کے سبب ایس ٹی طبقہ کی طرح احکامات جاری نہیں کئے گئے۔ چیف منسٹر کوامید ہے کہ 10 فیصد معاشی طور پر پسماندہ طبقات کے تحفظات کی برقراری کے بعد سپریم کورٹ میں 4 فیصد مسلم تحفظات کو کوئی خطرہ پیدا نہیں ہوگا۔ر