فیوچر سٹی میں زیرزمین برقی نظام کی ہدایت، گریٹر حیدرآباد میں اسمارٹ پولس کی تجرباتی تنصیب، چیف منسٹر ریونت ریڈی کا برقی صورتحال پر اعلیٰ سطحی اجلاس
حیدرآباد 16 مئی (سیاست نیوز) تلنگانہ میں برقی طلب میں گزشتہ سال کے مقابل بھاری اضافہ ہوا ہے۔ جاریہ سال 17162 میگاواٹ برقی کی طلب ریکارڈ کی گئی جو گزشتہ سال کے مقابلہ 9.8 فیصد زائد ہے۔ 2025-26ء میں 18138 میگاواٹ برقی طلب کا امکان ہے جبکہ 2034-35ء تک یہ بڑھ کر 31808 میگاواٹ ہوجائیگی۔ چیف منسٹر ریونت ریڈی نے برقی کی صورتحال پر اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد کیا جس میں عہدیداروں نے برقی طلب میں اضافہ اور مختلف شعبہ جات کو برقی کی مؤثر سربراہی کی تفصیلات سے واقف کرایا۔ عہدیداروں نے کہاکہ ہر شعبہ کو بلاتوقف برقی سربراہی کا سلسلہ جاری ہے۔ عہدیداروں کے مطابق حیدرآباد میں ڈیٹا سنٹرس کے قیام میں اضافہ کے پیش نظر معیاری برقی سربراہی کو یقینی بنانے انفراسٹرکچر میں اضافہ کیا گیا ہے۔ حکومت نے حیدرآباد میں ڈیٹا سنٹر کے قیام کا اعلان کیا ہے۔ چیف منسٹر ریونت ریڈی نے عہدیداروں کو ہدایت دی کہ ریڈئیل روڈس اور سیٹلائیٹ ٹاؤن شپس کی برقی ضرورتوں کی تکمیل میں ایچ ایم ڈی اے اشتراک کریں۔ ریجنل رنگ روڈ کے حدود میں ریڈئیل روڈس اور سیٹلائیٹ ٹاؤن شپس قائم کی جائیں گی جس کے نتیجہ میں ہر سطح پر برقی طلب میں اضافہ ہوسکتا ہے۔ برقی سربراہی نیٹ ورک کو عصری بنانے ہدایت دیتے ہوئے چیف منسٹر نے کہاکہ فیوچر سٹی میں انڈر گراؤنڈ برقی سربراہی نیٹ ورک تیار کیا جائے۔ اُنھوں نے کہاکہ فیوچر سٹی میں برقی ٹاورس اور برقی پولس کے بجائے زیرزمین نیٹ ورک کو بچھایا جائے۔ اُنھوں نے کہاکہ ہائی ٹینشن لائن بھی زیرزمین ہونی چاہئے۔ چیف منسٹر نے سکریٹریٹ، نیکلس روڈ اور کے بی آر پارک میں پائلیٹ پراجکٹ کے طور پر اسمارٹ پولس قائم کرنے کی تجویز پیش کی۔ گریٹر حیدرآباد میں حکومت اسمارٹ پولس کے قیام کا منصوبہ رکھتی ہے۔ چیف منسٹر نے آؤٹر رنگ روڈ پر 160 کیلو میٹر حدود میں سولار پاور جنریشن کا منصوبہ تیار کرنے ہدایت دی اور کہاکہ گریٹر حدود میں فٹ پاتھ اور نالوں پر سولار پاور جنریشن کے امکانات کا جائزہ لیں۔ چیف منسٹر نے عہدیداروں سے کہاکہ برقی طلب میں غیرمعمولی اضافہ کے پیش نظر مستقبل کی ضروریات اور تخمینہ جات کے مطابق ایکشن پلان تیار کیا جائے۔ چیف منسٹر نے کہاکہ تلنگانہ میں سرمایہ کاری میں غیرمعمولی اضافہ ہوا اور مستقبل میں صنعتی ترقی کو دیکھتے ہوئے برقی شعبہ کو منصوبہ بندی کرنی چاہئے۔ چیف منسٹر نے مشورہ دیا کہ صنعتوں کے علاوہ گلوبل کیپبلیٹی سنٹرس، ڈیٹا سنٹرس، پبلک ٹرانسپورٹ، الیکٹرک گاڑیوں اور میٹرو ٹرین جیسے پراجکٹس کے پیش نظر قابل تجدید توانائی پر خصوصی توجہ مرکوز کی جائے۔ اُنھوں نے کہاکہ آنے والے 3 برسوں میں برقی کی طلب میں مزید اضافہ ہوگا۔ اُنھوں نے کہاکہ جاریہ سال برقی طلب میں ریکارڈ اضافہ حکومت کی ایک اہم کامیابی ہے۔ اجلاس میں ڈپٹی چیف منسٹر بھٹی وکرامارکا، چیف سکریٹری رام کرشنا راؤ، اسپیشل چیف سکریٹری فینانس سندیپ کمار سلطانیہ، چیف منسٹر آفس کے سکریٹری اجیت ریڈی، صدرنشین ٹرانسکو کرشن بھاسکر، صدرنشین و منیجنگ ڈائرکٹر پاور ڈسٹری بیوشن کارپوریشن مشرف فاروقی، منیجنگ ڈائرکٹر ریڈکو اور دیگر نے شرکت کی۔ چیف منسٹر نے برقی طلب میں اضافہ کے پیش نظر کلین انرجی پر توجہ دینے کا مشورہ دیا۔ حکومت کی کلین اینڈ گرین انرجی پالیسی سے استفادہ کیا جاسکتا ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ آبپاشی پراجکٹس کی تعمیر، میٹرو ریل کی توسیع، ریلوے لائنس اور پبلک ٹرانسپورٹ سہولتوں کیلئے برقی ضروریات کو پیش نظر رکھا جائے۔ حیدرآباد و دیگر کارپوریشنوں کے حدود میں نئے ڈیٹا سنٹرس قائم کئے جائیں گے۔ اُنھوں نے کہاکہ حیدرآباد عالمی سطح پر کیبلیٹی سنٹرس کے مرکز میں تبدیل ہورہا ہے۔ حیدرآباد میں ڈیٹا سٹی کے قیام کا منصوبہ ہے۔1