حیدرآباد۔31جولائی (سیاست نیوز) بی جے پی تلنگانہ میں اپنے وجود کو مستحکم کرنے ’واٹس ایپ‘ گروپس کا سہارا لے گی اور آئندہ ایک ماہ میں 10 ہزار گروپ بنا کر اپنے نظریات کو فروغ دینے کو یقینی بنائے گی۔ اپوزیشن کے الزامات میں بی جے پی قائدین اور کارکنوں کی معلومات پر جو سب سے اہم الزام ہے اس میں ’واٹس ایپ ‘ یونیورسٹی سر فہرست ہے اور اب تلنگانہ میں پارٹی واٹس ایپ گروپس کے ذریعہ نظریات اور اطلاعات کو پھیلانے کی تیاریاں کر رہی ہے ۔ ذرائع کے مطابق بی جے پی ‘ریاستی سطح پرآئی ٹی سیل کو متحرک نہ رکھے جانے اور عوام تک سوشل میڈیا سے رسائی حاصل نہ پانے پر قومی قائدین کی سرزنش کے بعد اب بی جے پی قومی قیادت نے تلنگانہ آئی ٹی سیل کو قومی قائدین کی نگرانی میں چلانے کا فیصلہ کیا ۔ کہا جا رہاہے کہ ابتدائی طور پر عام آدمی تک رسائی کیلئے 10ہزار واٹس ایپ گروپس کی تیاری کو یقینی بنانے کا فیصلہ کیا گیا جبکہ دوسرے مرحلہ میں فیس بک اور ٹوئیٹر سے تعلیم یافتہ طبقہ تک رسائی کے اقدامات کا جائزہ لیا جا رہاہے ۔ بتایاجاتا ہے کہ تلنگانہ میں فی الحال بی جے پی سے 3ہزار گروپ چلائے جارہے ہیں اور ان گروپس کے ذریعہ قائدین کی تقاریر اور نظریات کے علاوہ عوامی ذہن سازی پر توجہ دی جا رہی ہے ۔ بی جے پی آئی ٹی سیل کے کا کہناہے کہ عام شہری ٹوئیٹر یا فیس بک سے معلومات حاصل کرنے سے زیادہ واٹس ایپ کی معلومات کو دوسروں تک پہنچاتا ہے اسی لئے تلنگانہ میں واٹس ایپ کے ذریعہ عوام تک رسائی کی کوشش کریگی۔ پارٹی قائدین کے مطابق آئی ٹی سیل نے تلنگانہ میں واٹس ایپ گروپس کے پیغامات کو مقامی تلگو زبان کے علاوہ دیگر زبانوں میں پھیلانے کا منصوبہ تیار کیا ہے اور اس کے تحت تلگو آئی ٹی سیل کے افراد کی خدمات قومی قائدین کی نگرانی میں حاصل کی جائیں گی ۔