ایندھن کی قیمتوں کا اثر ٹرانسپورٹ پر، عام آدمی کا گھریلو بجٹ متاثر
حیدرآباد۔ 23 جون (سیاست نیوز) تلنگانہ میں شدید گرمی ‘ بارش کی کمی اور زیر زمین پانی کے گھٹتے گراف نے عام آدمی کے کچن کا بجٹ مکمل بگاڑ کر رکھ دیا ہے۔ ریاست میں ترکاری کی قیمتیں اب عام صارفین کی پہنچ سے باہر ہوچکی ہیں۔ جون کا مہینہ ختم ہونے کو ہے لیکن مانسون کی بے رخی اور بارشوں کی کمی سے مقامی سطح پر ترکاریوں کی کاشت و پیداوار میں گراوٹ درج کی گئی۔ اس کے علاوہ ایندھن (پٹرول۔ ڈیزل) کی بڑھتی قیمتوں نے رہی سہی کسر پوری کردی۔ مارکٹ کی صورتحال یہ ہیکہ ہری مرچ، بینگن، چقندر، پھلیاں اور چنے جیسی روز مرہ استعمال کی ترکاریوں کے دام دگنے سے زیادہ ہوچکے ہیں، وہیں دوسری طرف بورویلز میں پانی کی کمی سے پالک، میتھی، کوتمیر اور پودینہ جیسی ہری پتیوں والی سبزیاں منڈیوں تک پہنچنے سے پہلے ہی کھیتوں میں مرجھا رہی ہیں جس کے باعث ان کی قیمتوں کو بھی پر لگ گئے ہیں۔ زمینی قلت اور آبپاشی کی سہولیات نہ ہونے سے تلنگانہ کے کسان سبزیوں کی کاشت سے کترانے لگے ہیں۔ رعیتو بازاروں اور مقامی مارکیٹس میں سپلائی کم ہونے سے تاجر اب مہاراشٹرا، ٹاملناڈو اور مدھیہ پردیش جیسی دیگر ریاستوں سے ترکاری درآمد کرنے پر مجبور ہیں۔ دیگر اضلاع کے چھوٹے تاجر حیدرآباد اور کرنول جیسے بڑے مراکز سے سامان لارہے ہیں چونکہ ترکاری دوسرے مقامات سے منگوائی جارہی ہیں اس لئے ٹرانسپورٹ اخراجات بڑھ گئے ہیں اور درمیانی افراد نے قیمتوں میں اضافہ کردیا اس کا سارا بوجھ اب ریٹیل مارکٹ صارفین پر پڑ رہا ہے۔ کھانے کی تھالی سے ترکاری غائب ہونے اور قیمتوں میں بے تحاشہ اضافے نے متوسط و غریب طبقے کی کمر توڑ دی ہے۔ صارفین کا کہنا ہے کہ بازار جانے پر جیب خالی ہو رہی ہے اور وہ کیلو کے بجائے گرام یا پاو کیلو کے حساب سے ترکاری خریدنے پر مجبور ہیں۔ 2؍F