تلنگانہ میں شراب اسکام اور دیگر معاملات کیخلاف کارروائی اچانک تھم گئی

   

بی آر ایس اور بی جے پی کے درمیان مفاہمت سے متعلق عوام میں چہ میگوئیاں

حیدرآباد۔4۔جنوری(سیاست نیوز) تلنگانہ میں شراب اسکام کے علاوہ دیگر معاملات میں انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ ‘ سی بی آئی کے علاوہ انکم ٹیکس کی کاروائیوں کے اچانک ماند پڑجانے کے بعد تلنگانہ عوام میں یہ تاثر پیدا ہونے لگا ہے کہ بھارتیہ جنتاپارٹی اور بھارت راشٹرسمیتی کے درمیان مفاہمت ہوچکی ہے کیونکہ سال گذشتہ کے اواخر میں سی بی آئی ‘ انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کے علاوہ انکم ٹیکس کی جانب سے کی گئی بڑے پیمانے پر کاروائیوں کے ساتھ ہی یہ سمجھا جا رہا تھا کہ مرکزی تحقیقاتی ایجنسیوں کی جانب سے شراب اسکام معاملہ کے علاوہ ایم بی بی ایس نشستوں کی فروخت کے متعلق بڑے پیمانے پر سرکردہ قائدین کی گرفتاریاں عمل میں لائی جائیں گی لیکن ارکان اسمبلی کی خرید و فروخت کے مقدمہ میں جس انداز میں کاروائی ماند پڑتی گئی اسی طرح شراب معاملہ اور انکم ٹیکس دھاؤوں کی خبریں بھی ماند پڑتی چلی گئیں جس کے نتیجہ میں تلنگانہ عوام میں یہ احساس پیدا ہونے لگا ہے کہ اب بی آر ایس اور بی جے پی کے درمیان مفاہمت ہوچکی ہے اسی لئے دونوں ہی سیاسی جماعتیں اپنے اپنے قائدین کو بچانے کی کوشش میں لگی ہوئی ہیں۔ ریاستی وزیر سی ایچ ملا ریڈی پر انکم ٹیکس دھاوؤں کے بعد انکم ٹیکس عہدیداروں نے انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کو مکتوب روانہ کرتے ہوئے ایم بی بی ایس کے علاوہ پی جی نشستوں کی فروخت کے معاملہ کی جانچ کی خواہش کی تھی اس کے بعد چیف منسٹر تلنگانہ کے چندر شیکھر راؤ کی دختر و رکن قانون ساز کونسل بھارت راشٹر سمیتی مسز کے کویتا سے سی بی آئی نے پوچھ تاچھ کی اور بعد ازاں انہیں الکٹرانک آلات کی فہرست حوالہ کرتے ہوئے وہ موبائیل فونس پیش کرنے کی نوٹس دی تھی جو کہ ان کے زیر استعمال رہے۔ ریاستی وزیر کے علاوہ چیف منسٹر کی دختر کے پوچھ تاچھ کے بعد ارکان اسمبلی کی خرید و فروخت کے معاملہ میں عدالتی احکامات اور رکن اسمبلی پائلٹ روہت ریڈی کو انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کی جانب سے دی گئی نوٹس کے بعد اچانک تبدیلیاں رونما ہونے لگیں اور تلنگانہ میں مرکزی ایجنسیوں کی سرگرمیاں ماند پڑنے لگ گئیں اور اب جو صورتحال ہے اسے دیکھتے ہوئے عام شہریوں میں یہ رجحان پیدا ہونے لگا ہے کہ مختلف مقدمات کے معاملہ میں مفاہمت کا موقف سیاسی جماعتوں نے اختیار کیا ہے کیونکہ ارکان اسمبلی کی خرید و فروخت کے معاملہ میں بی جے پی کے سرکردہ قائدین کے نام منظر عام پر آنے لگے تھے لیکن اب وہ مقدمہ بھی سی بی آئی کے حوالہ کرنے کی عدالت نے ہدایت دے دی ہے ۔م