سب کا ساتھ سب کا وکاس کا نعرہ جملہ بازی ، صنعتی ترقی کی سالانہ رپورٹ جاری
حیدرآباد ۔ 6 ۔ جون : ( سیاست نیوز ) : ریاستی وزیر آئی ٹی و صنعت کے ٹی آر نے مرکزی حکومت کو مشورہ دیا کہ وہ ترقی کرنے والی ریاستوں کی حوصلہ شکنی کے بجائے سیاست سے بالاتر ہو کر حوصلہ افزائی کریں ۔ ریاستیں مضبوط و مستحکم ہوں تو ملک طاقتور ہوگا ۔ مینوفیکچرنگ شعبہ کو مستحکم کرنے کے لیے مرکز ضروری اقدامات کریں ۔ مرکز اچھے کام کرتی ہے تو اس کی ستائش کی جائے گی ۔ غلطی کرے تو تنقیدیں کی جائیں گی ۔ صرف انتخابات کے دوران ہی سیاست کرے باقی وقت ترقی اور فلاح و بہبود پر توجہ دیں ۔ محکمہ صنعت کی سالانہ رپورٹ پیش کرتے ہوئے ان خیالات کا اظہار کیا ۔ کے ٹی آر نے کہا کہ ٹی ایس آئی پاس کے ذریعہ 2.32 لاکھ کروڑ روپئے کی سرمایہ کاری ہوئی ہے ۔ ساتھ ہی 16.48 لاکھ افراد کو ملازمتیں فراہم ہوئی ہیں ۔ نکڑ ، چوراہوں پر کاروبار کرنے والوں کو خصوصی سہولتیں فراہم کی جارہی ہے ۔ ریاست کو سرمایہ کاری کے مرکز میں تبدیل کرنے کے لیے بڑے پیمانے پر اقدامات کئے جارہے ہیں۔ صنعتوں کے قیام کی منظوریوں میں تاخیر کرنے پر جرمانہ عائد کرنے والی تلنگانہ ملک کی واحد ریاست ہے ۔ صرف نئی اسکیمات متعارف کرانا کافی نہیں ہے ۔ اس پر موثر عمل آوری کے لیے سنجیدگی سے اقدامات کرنے کی ضرورت ہے ۔ چیف منسٹر کے سی آر کے ویژن کو سامنے رکھتے ہوئے کام کیا جارہا ہے ۔ کے ٹی آر نے کہا کہ 6 صنعتی کاریڈار قائم کرنے کی تجاویز روانہ کرنے کے باوجود مرکز نے کوئی ردعمل کا اظہار نہیں کیا ۔ تقسیم ریاست کے بل میں تلنگانہ میں قائم ہونے والی صنعتوں کی حوصلہ افزائی کرنے کا وعدہ کیا گیا مگر اس پر کوئی عمل آوری نہیں ہوئی۔ سب کا ساتھ سب کا وکاس صرف جملے بازی ہے ۔ انتخابات نہ رہنے پر ملک کی ترقی اہم ایجنڈا ہونا چاہئے ۔ تلنگانہ کی تشکیل کے بعد ابتداء میں کئی مسائل کا سامنا رہا تاہم پڑوسی ریاستوں سے مسابقت کرتے ہوئے کئی صنعتیں تلنگانہ میں قائم کی گئی ہیں ۔ صنعتوں کی ترقی میں تین آئی ۔ انوویشن ۔ انفراسٹرکچر ۔ انکلویژوی گروتھ ہمارا نصب العین ہے ۔۔ ن