یومیہ کی بنیاد پر رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت ، ریونت ریڈی کا جائزہ اجلاس سے خطاب
حیدرآباد۔28۔ اگسٹ(سیاست نیوز) چیف منسٹر اے ریونت ریڈی کی جانب سے محکمہ صحت کی کارکردگی پر شدید برہمی کا اظہار کئے جانے کے بعد آج محکمہ صحت کے اعلیٰ عہدیدارو ںنے شہر حیدرآباد کے سرکاری دواخانوں کے علاوہ اضلاع میں موجود سرکاری دواخانوں کا دورہ کرتے ہوئے مریضوں سے ملاقات کی اور طبی سہولتوں کے متعلق آگہی حاصل کی ۔ چیف منسٹر نے گذشتہ یوم جائزہ اجلاس کے دوران تلنگانہ میں ملیریا اور ڈینگو کے علاوہ دیگر امراض پر قابو پانے میں محکمہ صحت کے عہدیداروں کی ناکامی پر برہمی کا اظہار کیا تھا اور کہا تھا کہ روزانہ کے اساس پر ڈینگو اور ملیریا کے مریضوں کے علاوہ دیگر وائرل امراض کے مریضوں کے علاج و معالجہ کی رپورٹ تیار کرتے ہوئے پیش کی جائے ۔ انہوں نے اس بات کی ہدایت دی تھی کہ ریاست کے تمام سرکاری دواخانوں میں ملیریا اورڈینگو اور دیگر وبائی امراض کے علاج کی سہولتوں کی فراہمی اور معیاری علاج کے اقدامات کئے جائیں ۔ چیف منسٹر کی ہدایت کہ بعد ڈائریکٹر صحت عامہ ڈاکٹر رویندرنائک نے آج دواخانہ عثمانیہ کا دورہ کرتے ہوئے ڈاکٹرس اور مریضوں سے ملاقات کی۔ انہوں نے اپنے دورہ کے دوران دواخانہ کے عملہ کو صاف صفائی کا خصوصی خیال رکھنے کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ دواخانہ سے علاج کے لئے رجوع ہونے والے مریضوں کے معیاری علاج اور ان کی بہتر تشخیص پر توجہ مرکوز کی جائے تاکہ ریاست بھر میں ملیریا‘ ڈینگو اور چکون گنیا جیسے امراض پر فوری طور پر قابو پایا جاسکے ۔ ڈاکٹرس سے ملاقات کے دوران انہو ںنے ہمہ وقت دستیاب رہنے اور مریضوں کی بہتر تشخیص کو یقینی بنانے کے علاوہ بہتر علاج پر توجہ دینے کی ہدایت دی۔ کمشنر ویدیا ودھان پریشد نے گاندھی ہاسپٹل کا دورہ کرتے ہوئے دواخانہ میں شریک مریضوں سے ملاقات کرتے ہوئے انہیں فراہم کی جانے والی طبی سہولتوں کے سلسلہ میں دریافت کیا اور کہا کہ ریاست بھر میں جاری وبائی امراض پر قابو پانے کے لئے حکومت کی جانب سے اقدامات کئے جا رہے ہیں اور ممکنہ حد تک سرکاری دواخانوں میں بہترین علاج کی فراہمی پر توجہ مرکوز کی جا رہی ہے۔ انہوں نے ڈاکٹرس کو مشورہ دیا کہ وبائی امراض کا شکار مریض جو دواخانہ سے رجوع ہورہے ہیں ان کی تمام تر تفصیلات اکٹھا کرتے ہوئے ڈائریکٹر محکمہ صحت کو روانہ کی جائیں تاکہ حکومت کے پاس مریضوں کی تفصیلات موجود رہیں اور حکومت کی جانب سے سرکاری دواخانوں کی کارکردی بہتر بنائی جاسکے۔3