حیدرآباد ۔ 27 ۔ ستمبر (سیاست نیوز) ریاست تلنگانہ میں نکسلائیٹ سرگرمیاں دن بہ دن زور پکڑتی جارہی ہیں۔ امیر غریب کی آمدنی میں فرق، سماج میں بڑھتی ہوئی ناانصافی اور ایک خاندان یا چار خاندانوں میں فسطائیت کا عروج، کیا یہی وجوہات ہیں جن کی وجہ سے نکسلائیٹ دوبارہ سرگرم ہورہے ہیں۔ انٹلیجنس کی جانب سے چوکسی کی اطلاع اور گوداری آبگیر علاقوں میں نکسلائیٹس کی سرگرمیاں ریاستی پولیس کیلئے لمحہ فکر بن گئی ہے۔ باوثوق اطلاعات کے مطابق نکسلائیٹس نے اپنے کیڈر کو مضبوط کرنے کے ساتھ ساتھ نئی بھرتی پر بھی توجہ مرکوز کردی ہے۔ ماؤسٹوں کی سرگرمیوں سے نہ صرف ریاست تلنگانہ بلکہ مہاراشٹرا اور چھتیس گڑھ کے سرحدی علاقے بھی متاثر ہوگئے ہیں۔ گزشتہ کچھ عرصہ سے ان تینوں ریاستوں کے سرحدی علاقوں میں ماؤسٹوں کی سرگرمیوں میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے اور ان پر قابو پانے کیلئے پولیس کی کوششیں بھی تیز ہوگئی ہیں۔ ان دنوں ماؤسٹوں کی جانب سے شہیدوں کی یاد میں تقاریب منائی جارہی ہیں۔ 21 تا 27 ستمبر ماؤسٹوں نے 18 ویں شہید تقاریب کا اعلان کیا تھا اور اس ضمن میں سرحدی علاقوں میں منعقدہ تقاریب نے پولیس اور انٹلیجنس کو حیرت میں ڈال دیا۔ ایک پروگرام میں 10 تا 12 مواضعات کی عوام نے شرکت کی اور اس اجلاس میں عوام کی کثیر تعداد کے علاوہ ماؤسٹوں کے سرکردہ قائدین بھی شریک تھے۔ ایک طرف ماؤسٹوں کی جانب سے بڑے پیمانہ پر تشہیر جاری ہے تو دوسری طرف پولیس کی جانب سے سرکردہ نکسلائیٹس قائدین کے پوسٹرس اور پمفلٹس کی تقسیم عمل میں لائی جارہی ہے اور عوام میں یہ اعلان کیا جارہا ہے کہ ماؤسٹوں کی اطلاع دینے پر انہیں انعامات دیئے جائیں گے ۔ ماؤسٹوں کے اجلاس کی تصاویر کا منظر عام پر آنا حیرت کا سبب بنا ہوا ہے ۔ سرکردہ ماؤسٹ قائدین کی نقل و حرکت کی اطلاعات کے بعد پولیس کی گشت میں اضافہ کردیا گیا ہے ۔ گرے ہانڈس کے علاوہ پولیس کے خصوصی مصلح دستے جنگلات کا عملاً محاصرہ کر رہے ہیں۔ باوجود اس کے ماؤسٹوں کی سرگرمیاں بڑھتی جارہی ہیں۔ طویل عرصہ سے گمنامی میں رہنے کے بعد اچانک ماؤسٹوں کا منظر عام پر آنا سیاسی قائدین اور بدعنوان عہدیداروں کی پریشانیوں میں اضافہ کا سبب بن گیا ہے۔ ملک کے موجودہ سیاسی حالات اور اس کے اثرات ماؤسٹوں کو اپنا کام کرنے میں آسانی کا سبب بن سکتے ہیں۔ تلنگانہ کے اضلاع میں پولیس کی جانب سے گھر گھر تلاشی لی جارہی ہے ۔ چھتیس گڑھ کے بیجا پور جنگلات میں ماؤسٹوں کے اجلاس کی اطلاع کے بعد پولیس اور ماؤسٹوں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ پیش کیا۔ تاہم ماؤسٹ فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے اور پولیس ان کے ٹھکانوں کا پتہ لگانے میں مصروف ہوگئی۔