تلنگانہ میں کانگریس اقتدار کا ایک سال ، ایک لاکھ کروڑ کے ترقیاتی کام

   

قومی شاہراہوں کی ترقی ، میٹرو ریل ، فلائی اوور بریجس کا آغاز ، فیوچر اور فورتھ سٹی کے منصوبوں پر عمل
حیدرآباد۔27۔نومبر(سیاست نیوز) تلنگانہ میں کانگریس کے اقتدار میں آنے کے بعد شہر حیدرآباد میں ایک لاکھ کروڑ کے ترقیاتی کاموں کا پہلے ایک سال کے دوران آغاز کیاگیا ہے اور چیف منسٹر اے ریونت ریڈی کی نگرانی میں کانگریس حکومت کی جانب سے شہر حیدرآباد میں تجارتی مرکز میں تبدیل کرنے کے اقدامات کے طور پر جو ترقیاتی کام انجام دیئے جا رہے ہیں ان میں شہر حیدرآباد کی قومی شاہراہوں کو دیگر ریاستوں سے مربوط کرنے کے علاوہ حیدرآباد میٹرو ریل کا دوسرا مرحلہ اور دیگر کئی ترقیاتی کام شامل ہیں جو کہ چیف منسٹر اے ریونت ریڈی کے اقتدار حاصل کرنے کے اندرون ایک برس شروع کئے گئے ہیں۔ حکومت تلنگانہ ماسٹر پلان 2050 کے منصوبہ کے تحت شہری سہولتوں کو بہتر بناتے ہوئے تلنگانہ کے دارالحکومت میں جن ترقیاتی کاموں کا آغاز کیا ہے ان کی مالیت ایک لاکھ کروڑ سے تجاوز کرچکی ہے۔ شہر میں ٹریفک مسائل کے حل اور ٹریفک جام سے نمٹنے کے لئے دو منزلہ فلائی اوور برجس کی تعمیر کے علاوہ متباثل راہداریوں کے لئے کاموں کے آغاز کا منصوبہ تیار کرتے ہوئے چیف منسٹر اے ریونت ریڈی نے سنگ بنیاد رکھنے کے علاوہ ان کاموں کو تیزی سے شروع کرنے کی ہدایت دی ہے۔2232 کروڑ کی لاگت سے الوال میں راجیو راہداری کے قریب اونچائی پر متبادل راہداری کی تعمیر کے علاوہ 1580 کروڑ کی لاگت سے دومنزلہ فلائی اوور کی حیدرآباد ۔ناگپور شاہراہ پر تعمیر کا سنگ بنیاد رکھا جاچکا ہے۔ حکومت نے دونوں شہروں میں موجود تالابوں کے تحفظ اور ان کے احیاء کے لئے اقدامات کا آغاز کرنے کے علاوہ دونوں شہروں کو پینے کا پانی سربراہ کرنے والے ذخائر آب حمایت ساگر اور عثمان ساگر کے تحفظ اور اسے آلودگی سے پاک بنانے کے اقدامات کے ساتھ ساتھ موسیٰ ندی کو آلودگی سے پاک ندی بنانے اور اس میں بہنے والے پانی کو صاف کرنے کے لئے ندی کے قریب 39 سیوریج واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹس کی تعمیر کے اقدامات کئے ہیںتاکہ نالوں کے ذریعہ موسیٰ ندی میں پہنچنے والی گندگی کو روکنے کے اقدامات کئے جاسکیں۔ حکومت کی جانب سے شہر حیدرآباد کو گوداوری ندی کے ذریعہ 20 ٹی ایم سی پانی پہنچاتے ہوئے اسے عثمان ساگر اور حمایت ساگر کے ذریعہ شہریوں کو پینے کے پانی کے طور پر سربراہ کرنے کے اقدامات کرنے کے انتظامات کئے جا رہے ہیں۔ اسی طرح تلنگانہ میں عوامی حکمرانی کے احیاء کے بعد سے شہر حیدرآباد میں عوامی ذرائع حمل و نقل کو بہتر بنانے کے لئے حکومت تلنگانہ کی جانب سے دونوں شہروں میں حیدرآبادمیٹرو ریل کی خدمات کو وسعت دینے کے لئے 24ہزار 237کروڑ کی لاگت سے 76.4کیلو میٹرپر محیط حیدرآباد میٹرو ریل کے دوسرے مرحلہ کے آغاز کو منظوری دی ہے جو کہ ناگول تا شمس آباد‘ ایل بی نگر تا حیات نگر ‘ مہاتما گاندھی بس اسٹیشن تا چندرائن گٹہ پر تعمیر کی جائے گی۔ حکومت تلنگانہ نے حیدرآباد انوویشن اینڈ ٹرانسفارمیٹیو انفراسٹرکچر پراجکٹس میں 8996کروڑ کی سرمایہ کاری کا فیصلہ کیا ہے اور ان پراجکٹس کے لئے 596.2 کروڑ کی تخصیص عمل میں لائی جاچکی ہے۔ اس کے علاوہ ریاستی حکومت کی جانب سے شہر کے نواحی علاقوں میں فیوچر سٹی اور فورتھ سٹی کے قیام کے لئے 30000 ایکڑ اراضی کی تخصیص عمل میں لائی گئی ہے جہاں نئے شہر کے قیام کے اقدامات کئے جا رہے ہیں۔ شہر حیدرآباد کو ریجنل رنگ روڈ سے مربوط کرنے کے لئے ریاستی حکومت کی جانب سے 18000 کروڑ کی لاگت سے نئی متبادل سڑکیں تعمیر کرنے کی منصوبہ بندی کرتے ہوئے ان کاموں کا آغاز کیا جارہا ہے۔ جو کہ آؤٹر رنگ روڈ اور ریجنل رنگ روڈ کے درمیان گرین فیلڈ ریڈیئل رنگ روڈ کے طور پر ترقی دی جائیں گی۔3