تلنگانہ میں کانگریس کی مقبولیت میں زبردست اضافہ

   

بی آر ایس کے بشمول دیگر جماعتوں کے قائدین بوکھلاہٹ کا شکار
حیدرآباد۔7۔نومبر۔(سیاست نیوز) تلنگانہ اسمبلی انتخابات میں کانگریس کو حاصل ہونے والی مقبولیت نے دیگر سیاسی جماعتوں کے قائدین کے دماغ پر چوٹ کرنی شروع کردی ہے! تلنگانہ میں بی آر ایس کے علاقائی سیاسی جماعت یا قومی سیاسی جماعت ہونے کے معاملہ میں خود بی آر ایس سربراہ اور قائدین کے علاوہ حلیف سیاسی جماعت کے سربراہ بھی الجھن کا شکار ہو چکے ہیں۔ بھارت راشٹرسمیتی علاقائی سیاسی جماعت ہے یا قومی سیاسی جماعت ہے!سربراہ بی آر ایس نے گذشتہ برس تلنگانہ راشٹرسمیتی کا نام تبدیل کرتے ہوئے اسے بھارت راشٹرسمیتی کرنے کا اعلان کیا تھا اور کہا تھا کہ ’’ٹی آر ایس ‘‘ اب علاقائی سیاسی جماعت نہیں رہی بلکہ تلنگانہ کی تشکیل و تعمیر کے مقصد کو پورا کرنے کے بعد اب وہ قومی سیاسی میں قدم رکھتے ہوئے ملک کی تعمیر کرنے کے خواہاں ہیں اور اسی لئے وہ ’’ٹی آر ایس ‘‘ کو تبدیل کرتے ہوئے ’’ بی آر ایس ‘‘ کررہے ہیں اور ان کی پارٹی بھارت راشٹرسمیتی ہوگی۔اپنی پارٹی کو قومی سیاسی جماعت قرار دینے والے چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤنے اب یہ کہنا شروع کردیا ہے کہ علاقائی سیاسی جماعتیں ملک کے مستقبل کے تحفظ کی ضامن ثابت ہوں گی اسی طرح کے سی آر کی حلیف سیاسی جماعت مجلس اتحاد المسلمین کے سربراہ بیرسٹر اسدالدین اویسی بھی یہ کہہ رہے ہیں کہ جن ریاستوں میں علاقائی سیاسی جماعتیں موجود ہیں ان ریاستوں میں قومی سیاسی جماعتوں کا مستقبل تابناک نہیں ہوسکتا۔چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ اور بیرسٹراسدالدین اویسی کے علاقائی سیاسی جماعت والے نظریہ اور خود بی آر ایس کی جانب سے کئے جانے والے قومی سیاست کے دعوے اب بی آر ایس قائدین کو الجھن کا شکار بنانے لگے ہیں۔ تلنگانہ میں علاقائی سیاسی جماعت کے طور پر خود کو پیش کرنے والی بھارت راشٹرسمیتی پڑوسی ریاست مہاراشٹرا کے پنچایت انتخابات میں حصہ لیتے ہوئے خودکو قومی سیاسی جماعت ثابت کرنے کی کوشش کرچکی ہے اور اب تلنگانہ ریاستی اسمبلی انتخابات کے دوران بھارتیہ جنتا پارٹی اور کانگریس کو قومی سیاسی اور خود کو علاقائی سیاسی جماعت کے طور پر پیش کرتے ہوئے یہ تاثر دینے کی کوشش کی جار ہی ہے کہ ریاست میں علاقائی سیاسی جماعت کی ضرورت ہے۔ تلنگانہ اسمبلی انتخابات کی مہم میں حلیف سیاسی جماعت مجلس کے صدر بیرسٹر اسدالدین اویسی علاقائی سیاسی جماعت کی اہمیت کو ثابت کرنے کی کوشش میں مصروف ہیں تو دوسری جانب ریاست تلنگانہ کے چیف منسٹر عوامی جلسوں سے خطاب کے دوران یہ باور کروانے کی کوشش کرر ہے ہیں کہ ملک کی سیاست میں علاقائی سیاسی جماعتوں کی اہمیت مسلمہ ہے اور اس سے کوئی انکار نہیں کرسکتا اسی لئے علاقائی سیاسی جماعتوں کے وجود کو ختم ہونے سے بچانا عوام کی ذمہ داری ہے۔ چیف منسٹر تلنگانہ کے چندر شیکھر راؤ ریاست کی سیاست میں نمایاں تبدیلی کو دیکھتے ہوئے بھارت راشٹرسمیتی کو علاقائی سیاسی جماعت اور تلنگانہ کے حصول کے لئے جدوجہد کرنے والی جماعت قرار دیتے ہوئے تلنگانہ جذبات کو ابھارنے اور اس کا استحصال کرنے کی کوشش کر رہے ہیں ۔