حیدرآباد۔14۔اگسٹ(سیاست نیوز) گورنر تلنگانہ کے کوٹہ کے تحت ارکان قانون ساز کونسل کی نامزدگی کے معاملہ میں ریاستی حکومت اور گورنر کو سپریم کورٹ سے راحت حاصل ہوئی ہے ۔سپریم کورٹ نے گورنر کوٹہ کے تحت نئے ارکان قانون ساز کونسل کی نامزدگی پر حکم التواء جاری کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ ارکان قانون ساز کونسل کی مخلوعہ نشستوں پر تقررات و نامزدگی گورنر اور حکومت کا اختیار ہے ان کے اس اختیار میں سپریم کورٹ کوئی مداخلت نہیں کرے گی۔ حکومت تلنگانہ نے گورنر تلنگانہ کے کوٹہ میں جناب عامر علی خان اور پروفیسر کودنڈا رام کی نامزدگی کا فیصلہ کرتے ہوئے احکام جاری کردیئے تھے لیکن بعد ازاں تلنگانہ ہائی کورٹ کی جانب سے جاری کئے گئے احکامات کے بعدیہ معاملہ لیت و لعل کا شکار ہوگیا تھا۔ ریاستی کابینہ نے جناب عامر علی خان نیوز ایڈیٹر روزنامہ سیاست اور تلنگانہ جہدکار پروفیسر کودنڈارام کے ناموں کو کابینہ میں دوبارہ منظوری دیتے ہوئے گورنر کو روانہ کیا ۔ حکومت کے فیصلہ کے بعد بی آر ایس قائدین نے سپریم کورٹ سے رجوع ہوتے ہوئے ان نامزدگیوں پر روک لگانے کی درخواست داخل کی۔ ان کی درخواست پر حکم التواء جاری کرنے سے انکار کرتے ہوئے جسٹس وکرم ناتھ اور جسٹس پرسنا بھالاچندرا نے بی آر ایس قائد ڈاکٹر دوساجو شرون کمارکی درخواست سماعت کے لئے قبول کرتے ہوئے حکومت تلنگانہ ‘ گورنر تلنگانہ اور دیگر فریقین کو نوٹس جاری کرنے کا حکم دیا اور کہا کہ اس مقدمہ کی سماعت آئندہ 4 ہفتوں میں فریقین کے جواب موصول ہونے کے بعد ہوگی۔ ریاستی کابینہ کی جانب سے دوبارہ جناب عامر علی خان اور پروفیسر کودنڈا رام کے ناموں کی روانگی کے بعد سپریم کورٹ سے رجوع ہوتے ہوئے حکم التواء حاصل کرنے کی کوشش میں ناکامی کے بعد ماہرین قانون کا کہناہے کہ دونوں ارکان قانون ساز کونسل کی نشستوں پر نامزدگی کے عمل میں حائل رکاوٹیں دور ہوچکی ہیں اور سپریم کورٹ نے 4 ہفتوں کے دوران نامزدگی کے عمل پر کوئی روک نہیں لگائی ۔3