2028 کے اسمبلی انتخابات کیلئے منصوبہ بندی کا آغاز ۔ انتخابی شیڈول سے قبل امیدواروں کے اعلان پر بھی غور
حیدرآباد 26 ڈسمبر ( سیاست نیوز ) تلنگانہ اسمبلی انتخابات میں توقع سے کم نشستیں حاصل کرنے کے بعد بی جے پی نے پارلیمانی انتخابات کیلئے سرگرمیاں تیز کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ پتہ چلا ہے کہ مرکزی قیادت نے تلنگانہ بی جے پی کیلئے ایک نشانہ مقرر کیا ہے اور اسے ذمہ داری سونپی ہے کہ ریاست میں لوک سبھا کی 17 نشستوں کے منجملہ کم از کم 8 نشستوں پر پارٹی کی کامیابی کو یقینی بنائیں ۔ پارٹی قائدین اور کارکنوں کو اس کیلئے تیار ہوجانے اور سرگرمیاں شروع کردینے کی ہدایت دی گئی ہے ۔ اسمبلی انتخابات میں ناقص مظاہرہ کے بعد پارٹی کی قومی قیادت چاہتی ہے کہ تلنگانہ میں 2028 اسمبلی انتخابات کیلئے ابھی سے منصوبہ بندی کی جائے ۔ پارٹی کا احساس ہے کہ چونکہ بی آر ایس کو کانگریس کے ہاتھوں اسمبلی انتخابات میں شکست ہوگئی ہے اس لئے یہ تاثر درست نہیں ہے کہ تلنگانہ میں بی آرا یس کو شکست نہیں دی جاسکتی ۔ بی جے پی اب اس بات کی تشہیر شروع کرے گی کہ لوک سبھا انتخابات میں تلنگانہ میں اصل مقابلہ بی جے پی اور کانگریس میں ہی ہوگا کیونکہ یہ انتخاب قومی مسائل پر لڑا جائے گا اور ریاستی اور علاقائی مسائل پس منظر میں چلے جائیں گے ۔ بی جے پی کو یہ یقین بھی ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی انتخابی مہم کے سارے ملک کی طرح جنوبی ہند پر بھی اثرات مرتب ہونگے ۔ اسی مہم کی وجہ سے بی جے پی کو امید ہے کہ جنوبی ہند اور تلنگانہ میں بھی پارٹی کے بیشتر امیدوار کامیاب ہوسکتے ہیں۔ گذشتہ پارلیمانی انتخابات میں بی جے پی نے چار لوک سبھا حلقوں سے کامیابی حاصل کی تھی ۔ پارٹی سے لوک سبھا انتخابات کیلئے ٹکٹ کے خواہشمندوں میں موجودہ مرکزی وزیر جی کشن ریڈی کے علاوہ موجودہ ارکان پارلیمنٹ قومی جنرل سکریٹری بنڈی سنجے اور دھرم پوری اروند اور سوئم باپو راؤ دوبارہ ٹکٹ کے خواہش مند ہیں ۔ اس کے علاوہ پارٹی کے دوسرے قائدین جیسے ایٹالہ راجندر ‘ ڈی کے ارونا ‘ کونڈا وشویشور ریڈی ‘ پی سدھاکر ریڈی مرلیدھر راؤ بھی پارلیمانی انتخابات کسی حلقہ سے مقابلہ کرنا چاہتے ہیں۔ چونکہ پارلیمانی انتخابات آئندہ سال اپریل یا مئی میں ہوسکتے ہیں سینئر بی جے پی قائدین کو امید ہے کہ امیدواروں کی پہلی فہرست کو مقررہ وقت سے 40 تا 60 دن پہلے تیار کی جائے گی ۔ پارٹی ذرائع نے توثیق کی کہ انتخابی شیڈول کی اجرائی سے قبل ہی امیدواروں کے ناموں کا اعلان کیا جاسکتا ہے ۔ بی جے پی کے ریاستی صدر و مرکزی وزیر جی کشن ریڈی سکندرآباد حلقہ کی نمائندگی کرتے ہیں۔ کشن ریڈی کے علاوہ کریمنگر کے رکن بنڈی سنجے اور نظام آباد کے رکن اروند دھرم پوری پہلے ہی پارٹی قیادت کے پاس اپنے ٹکٹ کیلئے کوششیں شروع کرچکے ہیں جبکہ عادل آباد کے رکن سوئم باپو راؤ کو شائد دوبارہ ٹکٹ نہیں دیا جائیگا کیونکہ انہوں نے اسمبلی انتخابات میں بوتھ حلقہ سے مقابلہ کیا تھا اور انہیں شکست ہوگبئی تھی ۔ اس حلقہ سے سابق رکن اسمبلی و بی آر ایس سے بی جے پی میں شامل ہوئے راتھوڑ باپو راؤ بی جے پی ٹکٹ کے خواہشمند ہیں۔عادل آباد سے رمیش راتھوڑ سابق ایم پی بھی ٹکٹ کے دعویدار ہیں ۔