بی سی تحفظات میں اضافہ کا فیصلہ، 6 ماہ تک انتخابات مؤخر کرنے کی منصوبہ بندی
حیدرآباد ۔22۔ڈسمبر (سیاست نیوز) اسمبلی انتخابات میں کامیابی کے بعد کانگریس حکومت کیلئے پہلا امتحان مجالس مقامی کے چناؤ رہیں گے۔ ریاست میں 23,973 سے زائد گرام پنچایتوں کی میعاد 31 جنوری کو ختم ہورہی ہے اور اگر مقررہ وقت پر انتخابات کرائے جائیں تو کانگریس اور بی آر ایس کے درمیان سخت مقابلہ کی توقع ہے۔ باوثوق ذرائع کے مطابق ریونت ریڈی حکومت نے پنچایت راج اداروں میں پسماندہ طبقات کے تحفظات میں اضافہ کا فیصلہ کیا ہے جس کے لئے پنچایت راج ایکٹ 2018 میں ترمیم کی جائے گی، لہذا گرام پنچایت انتخابات کو کم از کم 6 ماہ تک موخر کرنے کا امکان ہے۔ کانگریس نے انتخابی منشور میں وعدہ کیا ہے کہ مجالس مقامی میں بی سی طبقات کے تحفظات کو 23 سے بڑھاکر 42 فیصد کیا جائے گا ۔ پارٹی نے بی سی طبقہ کے ذیلی زمرہ جات سے تعلق رکھنے والوں کو مجالس مقامی میں تحفظات فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ تحفظات میں اضافہ کیلئے قانون میں ترمیم کیلئے کم از کم چار ماہ درکار ہوں گے اور بتایا جاتا ہے کہ بجٹ سیشن میں حکومت پنچایت راج قانون میں ترمیم کرے گی۔ تحفظات میں اضافہ کے پیش نظر گرام پنچایتوں کے چناؤ فروری میں ممکن نہیں ہے۔ واضح رہے کہ سابق بی آر ایس حکومت نے پنچایت راج ایکٹ 2018 اور میونسپلٹیز ایکٹ 2019 وضع کرتے ہوئے نئے قوانین کے تحت 2019 ء میں انتخابات منعقد کئے تھے۔ عہدیداروں کا کہنا ہے کہ جون 2019 ء میں ضلع اور منڈل صدور جبکہ جنوری 2020 ء میں بلدی اداروں کے انتخابات ہوئے تھے۔ قوانین میں ترمیم اور بی سی تحفظات میں اضافہ کیلئے حکومت کو سروے کا اہتمام کرنا پڑے گا۔ بی سی طبقات کی معاشی اور سماجی صورتحال کا جائزہ لیتے ہوئے تحفظات میں اضافہ کیا جاسکتا ہے۔ سروے کی تکمیل اور قانون سازی کیلئے کم از کم 6 ماہ کا وقت درکار ہوگا۔ کانگریس پارٹی انتخابی وعدہ کی تکمیل کے ذریعہ بی سی طبقات کے ووٹ حاصل کرنا چاہتی ہے اور مجالس مقامی اور پنچایت راج اداروں میں بہتر مظاہرہ سے لوک سبھا انتخابات میں پارٹی کو فائدہ ہوسکتا ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ لوک سبھا چناؤ تک بی سی تحفظات میں اضافہ ہوگا یا پھر مزید ایک سال تک پنچایت راج اداروں کے چناؤ کیلئے عوام کو انتظار کرنا پڑے گا۔ر