تلنگانہ میں 335 ڈگری کالجس بند

   

ڈگری کورسیس میں داخلوں کے رجحان میں تشویشناک گراوٹ
حیدرآباد۔26۔ستمبر۔(سیاست نیوز) ریاست میں گذشتہ 5برسوں کے دوران 335 ڈگری کالجس بند ہوچکے ہیں۔ بتایا جاتاہے کہ ڈگری کورسس میں داخلوں کے رجحان میں ریکارڈ کی جانے والی گراوٹ کے نتیجہ میں خانگی ڈگری کالجس بند کئے جانے لگے ہیں اور ہر سال قریب 50 کالجس بند کئے جانے لگے ہیں۔ حکومت تلنگانہ نے ڈگری میں داخلوں کے لئے جو DOST نظام متعارف کروایا ہے اس میں جاریہ سال کے دوران بھی داخلوں کا مجموعی فیصد موجودہ منظورہ نشستوں پر 35 سے کم ہے۔جاریہ تعلیمی سال کے لئے ہوئے داخلوں کے دوران 56 ایسے ڈگری کالجس کی نشاندہی کی گئی ہے جہاں داخلہ ’’0‘‘ ہیں۔بتایا جاتا ہے کہ ان کالجس میں جہاں 16ہزار 460 نشستیں موجود ہیں ان میں ایک بھی نشست پر داخلہ نہ ہونے کے سبب انہیں صفر داخلہ والے کالجس میں شمار کیا جانے لگا ہے۔ تفصیلات کے مطابق گذشتہ 2برسوں کے دوران مذکورہ 56کالجس میں 25 فیصد سے بھی کم نشستوں پر داخلے ہورہے تھے ۔ڈگری کالجس کے انتظامیہ کا کہناہے کہ حکومت کی جانب سے ڈگری کالجس کو کسی بھی طرح کی مدد حاصل نہ ہونے کے سبب ڈگری کالجس اور کورسس غیر اہم ہونے لگے ہیں۔ انتظامیہ کے ذمہ داروں کا کہناہے کہ حکومت تلنگانہ ریاست میں ڈگری کالجس کے فیس بقایا جات کی اجرائی کے معاملہ میں مکمل طور پر خاموشی اختیار کی ہوئی ہے اور بقایاجات کی عدم وصولی کے نتیجہ میں کالجس انتظامیہ اپنے عملہ کو تنخواہیں ایصال کرنے کے موقف میں بھی نہیں ہیں۔ڈاکٹر بی سوریہ نارائن ریڈی صدر ڈگری کالجس مینجمنٹ اسوسیشن نے بتایا کہ ریاستی حکومت کی جانب سے خانگی ڈگری کالجس کو کسی بھیطرح کی اعانت کے بجائے انہیں معاشی مشکلات کا شکار بنانے کی پالیسی کے نتیجہ میں کالجس کو بند کیا جانے لگا ہے۔ انہوںنے مزید بتایا کہ بیشتر کالجس مجموعی اعتبار سے معمولی فیس وصول کرتے ہوئے چلائے جارہے ہیں۔H/M/3