مرکزی وزارت داخلہ کی ہدایت کے بعد ریاستی محکمہ مال کی جانب سے نقشوں کی تیاری
حیدرآباد ۔ 3 مئی (سیاست نیوز) ریاست تلنگانہ میں ہزاروں ایکر اینمیی پراپرٹیز ہیں۔ پاکستان اور چین کے ساتھ جنگ کے درمیان ہمارے ملک کو چھوڑ کر جانے والوں کی جائیدادوں اور اثاثہ جات کو اینمیی پراپرٹیز کہا جاتا ہے۔ مرکزی حکومت کے اعدادوشمار بتاتے ہیں کہ ملک بھر میں 13 ہزار ایکر اراضی کے علاوہ بڑی تعداد میں دیگر اثاثہ جات ہیں۔ تلنگانہ میں 4 ہزار ایکر اراضی اور 200 سے زیادہ جائیدادیں ہونے کا اندازہ لگایا جارہا ہے۔ مرکزی وزارت داخلہ ان جائیدادوں کی مکمل تفصیلات حاصل کرنے کے اقدامات کا آغاز کیا ہے۔ ریاست کے محکمہ مال کے عہدیداروں کو ایک سے زیادہ اجلاس طلب کرتے ہوئے اس کا سروے کرانے کے احکامات جاری کئے گئے ہیں۔ ان جائیدادوں کی حفاظت کیلئے مرکز نے 1968 میں اینمیی پراپرٹیز ایکٹ نافذ کیا تھا۔ اس کے مطابق ریاستوں کو ان جائیدادوں اور اثاثوں کی حفاطت کرنے کی ہدایت دی گئی تھی۔ تاہم ابھی تک کئی علاقوں میں ان جائیدادوں پر قبضے ہوگئے ہیں۔ چند مقامات پر نوٹس جاری کی گئی مگر اس کے کوئی نتائج برآمد نہیں ہوئے۔ مرکزی حکومت نے گزشتہ سال اکٹوبر میں ان جائیدادوں سے متعلق قانون میں ترمیم کی ہے۔ ان جائیدادوں پر قبضہ کرنے والے اگر اہل ہیں تو انہیں خریدنے کی سہولت فراہم کی گئی ہے۔ اس کے ایک حصہ کے طور پر ریاست بھر میں ایک اور سروے کرنے اور ان جائیدادوں کا نقشہ بنانے کے احکامات جاری کئے گئے ہیں جس کے بعد محکمہ مال نے کارروائی کا آغاز کردیا ہے۔ ریاست میں سال 2017-18ء کے درمیان اراضیات کے دستاویزات کا جائزہ لینے پر متحدہ ضلع رنگاریڈی میں 2000 متحدہ ضلع محبوب نگر میں 1200 ایکر اور متحدہ ضلع کھمم میں 800 ایکر اینمیی اراضی ہونے کی نشاندہی ہوئی ہے۔2