تلنگانہ میں 42 فیصد بی سی تحفظات کے ساتھ مجالس مقامی کے انتخابات

   

طبقاتی مردم شماری کے مرکز کے فیصلہ کا خیرمقدم، صدرنشین بی سی کمیشن جی نرنجن کی پریس کانفرنس
حیدرآباد 2 مئی (سیاست نیوز) تلنگانہ کمیشن فار بیک ورڈ کلاسیس نے مرکزی حکومت کی جانب سے طبقاتی مردم شماری کے اعلان کا خیرمقدم کیا ہے۔ کمیشن کے صدرنشین جی نرنجن اور ارکان ٹی سریندر اور آر جئے پرکاش نے میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہاکہ مرکزی حکومت کی جانب سے تمام طبقات کی حقیقی آبادی اور اُن کی صورتحال کا جائزہ لینے کے لئے ملک بھر میں طبقاتی مردم شماری کا فیصلہ خوش آئند ہے۔ مرکز نے عام مردم شماری کے ساتھ طبقاتی مردم شماری کو شامل کیا ہے اور اِسے مکمل سائنٹفک انداز میں کیا جانا چاہئے۔ جی نرنجن نے کہاکہ تلنگانہ ملک کی پہلی ریاست ہے جس نے طبقاتی سروے کا سائنٹفک انداز میں انعقاد عمل میں لایا جس میں ریاست میں پسماندہ طبقات کی آبادی 56.36 فیصد قرار پائی ہے۔ اسمبلی میں 17 مارچ کو دو علیحدہ بلز کی منظوری دی گئی۔ ایک بل کے ذریعہ پسماندہ طبقات کو تعلیم اور روزگار کے علاوہ عملی سیاست میں 42 فیصد حصہ داری فراہم کی جائے گی جبکہ دوسرے بل کے ذریعہ ایس سی زمرہ بندی کو منظوری دی گئی۔ گرام پنچایت اور ایم پی ٹی سی اور زیڈ پی ٹی سی انتخابات جنوری 2024 ء سے منعقد نہیں ہوئے ہیں۔ تلنگانہ حکومت مجالس مقامی میں پسماندہ طبقات کو 42 فیصد تحفظات کے ساتھ انتخابات منعقد کرے گی۔ نرنجن نے کہاکہ طبقاتی سروے میں 103889 شمار کنندگان کی خدمات حاصل کی گئیں جنھوں نے 11215134 خاندانوں کا سروے کیا۔ بی سی کمیشن نے مرکزی حکومت سے اپیل کی ہے کہ وہ تلنگانہ کو رول ماڈل کے طور پر قبول کرتے ہوئے 42 فیصد تحفظات کو دستور کے 9 ویں شیڈول میں شامل کرنے کے اقدامات کرے۔ بی سی کمیشن نے ریاستی حکومت سے درخواست کی کہ اِس سلسلہ میں تلنگانہ کی تمام سیاسی پارٹیوں کے نمائندوں کے ساتھ وزیراعظم سے ملاقات کرتے ہوئے اُنھیں 42 فیصد تحفظات کی منظوری کیلئے راضی کریں۔ بی سی کمیشن کا ماننا ہے کہ 42 فیصد تحفظات کے ذریعہ حقیقی معنوں میں سماجی انصاف قائم ہوگا۔1