ہر سال 9 ڈسمبر کو تلنگانہ تلی اوترانا دنواتسوم منانے کا فیصلہ ۔ کونسل سے منظوری کی خواہش۔ قانون ساز کونسل میں ڈپٹی چیف منسٹر ملو بٹی وکرامارک کا اظہار خیال
حیدرآباد 9 ڈسمبر (سیاست نیوز) تلنگانہ قانون ساز کونسل کے اجلاس میں ڈپٹی چیف منسٹر مسٹر ملو بھٹی وکرمارک نے حکومت سے ہر سال 9 ڈسمبر کو ’تلنگانہ تلی اوترانا دنو اتسوم‘ کے طور پر منانے کے فیصلہ سے ایوان کو واقف کروایا اور کہا کہ حکومت نے سیکریٹریٹ میں ’تلنگانہ تلی ‘ مجسمہ کی تنصیب کے ذریعہ تلنگانہ کے قیام کی جدوجہد میں خواتین کے کردار کو پیش کرنے اقدامات کر رہی ہے ۔ ڈپٹی چیف منسٹر نے کہا کہ شاعر اندیسری کے لکھے نغمہ کو ریاستی حکومت نے سرکاری ترانہ کے طور پر منظوری دی ہے تاکہ تلنگانہ تحریک اور تلنگانہ تہذیب و ثقافت کو محفوظ کیا جاسکے۔ انہوں نے ’تلنگانہ تلی ‘مجسمہ کو محض مجسمہ تصور نہ کرنے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا یہ تلنگانہ تہذیب کا عکاس اور فرض کی یاددہانی کروانے والا مجسمہ ہے۔ ملو بھٹی وکرمارک نے اس مجسمہ کو تلنگانہ عوام کی عزت نفس‘ وقاراور ہمارے وجود کی علامت قرار دیا اور کہا کہ یہ مجسمہ ہمیں مستقبل کی سمت رہنمائی کرتا ہے۔انہوں نے ایوان سے خواہش کی کہ وہ حکومت کے فیصلہ کو منظوری دے کر ہر سال 9 ڈسمبر کو ریاست میں ’تلنگانہ تلی اوترانا دنواتسوم‘ منانے کا خیر مقدم کریں۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ کی سر زمین نے ہمیشہ عظیم شخصیات کو جنم دیا ہے جنہوں نے جان کی قربانی دیتے ہوئے علاقہ کی عزت اور وقار کو بلند کرنے سے گریز نہیں کیا ۔ ملو بھٹی وکرمارک نے کہا کہ ماں تلنگانہ اب ایک نئی ترقی یافتہ ریاست کے طور پر ابھر رہی ہے اور ہر قوم ‘ ہر طبقہ اور مذہب کے ماننے والے ریاست میں خوشحال زندگی بسر کر رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ تلنگانہ کی تہذیب و تمدن اور ثقافت و روایات کو محفوظ رکھتے ہوئے آئندہ نسلوں کو بہتر مستقبل کی فراہمی حکومت کی ذمہ داری ہے ۔ ڈپٹی چیف منسٹر نے کہا کہ تلنگانہ کی آزادی اور خوشحالی کے سفر میں اجتماعی طور پر ہر شخص کو خواہ وہ کسی بھی طبقہ یا مذہب سے تعلق رکھتا ہو متحدہ طور پر کھڑا ہو کر اس خواب کو حقیقت میں تبدیل کرنا ہے۔انہوں نے مباحث میں حصہ لینے والے ارکان کونسل ٹی جیون ریڈی ‘ مہیش کمار گوڑ ‘ نرسی ریڈی ‘ اے بی این ریڈی کے علاوہ تین مار ملنا سے اظہار تشکر کیا اور تین مار ملنا کی پیش تلگو تلی فلائی اوور کے نام کو تبدیل کرکے اسے تلنگانہ تلی فلائی اوور سے موسوم کرنے کی تجویز پر غور کا تیقن دیا۔ ڈپٹی چیف منسٹر کی جانب سے تلنگانہ تلی کے موضوع پر دئیے گئے بیان پر مباحث میں ٹی جیون ریڈی ‘ مہیش کمار گوڑ‘ تین مار ملنا اور دیگر نے حکومت کے فیصلہ کا خیر مقدم کرکے تجاویز پیش کیں۔ ڈپٹی چیف منسٹر نے کہا کہ تلنگانہ کی تاریخ قربانیوں کے ساتھ لکھی گئی ہے اور تلنگانہ عوام ایک خاندان کے طرح متحد ہو کر ریاست کی ترقی کیلئے جدوجہد کررہے ہیں۔انہو ںنے بتایا کہ حکومت کا مقصد انسانیت کی فلاح و بہبود ہے اور حکومت اسی اصول پر کام کر رہی ہے ۔ انہو ںنے بتایا کہ حکومت نے تشکیل تلنگانہ کے بعد کئی سماجی ‘ معاشرتی اور دیگر مسائل کا سامنا کیا لیکن ہار نہیں مانی بلکہ جدوجہد کے ذریعہ کامیابی حاصل کی ۔ ملو بھٹی وکرمارک نے کہا کہ تلنگانہ فخر کے ساتھ ترقی کی راہ پر گامزن ہے اور اس کے کھیت ‘ کارخانے ‘ تعلیمی ادارے ‘ اور صنعتیں ایک نئی تاریخ رقم کر رہے ہیں۔ انہو ںنے اسے ماں تلنگانہ کی قربانیوں کا نتیجہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اجتماعی کوششوں کے نتیجہ میں ایک روشن مستقبل کی راہ ہموار ہوئی ہے۔انہوں نے بتایا کہ تلنگانہ نے بڑی مشکلات اور چیالنجس کا سامنا کرکے ہر طبقہ کو مضبوطی کے ساتھ آگے بڑھنے کا موقع فراہم کیا ہے۔ ڈپٹی چیف منسٹر نے کہا کہ تلنگانہ میں ماؤں‘ بہنوں اور نوجوانوں نے ہمیشہ ثابت قدمی سے کام کرکے ریاست کی ترقی کو یقینی بنایا ہے۔انہوں نے بتایا کہ عوام کے جذبہ ‘ عزم‘ اور ثابت قدمی ریاست کی حقیقی طاقت ہے اور تلنگانہ کے عوام کبھی پیچھے ہٹنے والے نہیں ہیں اور نہ کسی طاقت کے آگے جھکنے والے ہیں۔ انہو ںنے کہا کہ ’ہماری زمین ہماری جان ‘ ہماری ریاست ہمارا مان ہے‘ ۔ تلنگانہ کے نوجوانوں نے اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کرکے تلنگانہ کو فخر بخشا وہ تمام شعبوں میں تلنگانہ کے نام کو دنیا میں عزت و وقار کا مقام دلارہے ہیں۔ انہوں نے تلنگانہ کی فلاح وبہبود کیلئے سب نے متحدہ قربانیاں دے کر جدوجہد کی اور ان قربانیوں کی نتیجہ میں نئی ریاست کا خواب شرمندہ تعبیر ہوا۔ڈپٹی چیف منسٹر کی تجویز کو مختلف ارکان کونسل بشمول ٹی جیون ریڈی ‘ مہیش کمار گوڑ‘ تین مار ملنا و دیگر نے تائید کرکے منظوری کی راہ ہموار کی ۔3