درخواست گذاروں کیلئے نئی شرائط ۔ عہدیداروں کے من مانی فیصلوں سے عوام کو مشکلات
حیدرآباد۔22جولائی (سیاست نیوز) حکومت ہند نے قانون سازی کرکے ملک بھر میں طلاق ثلاثہ پر پابندی عائد کردی اور تلنگانہ وقف بورڈ عہدیداروں نے ایک دستخط کرکے خلع کی سند کی اجرائی پر پابندی عائد کردی!طلاق ثلاثہ پر پابندی کے بعد تلنگانہ وقف بورڈ سے طلاق کے سرٹیفیکٹ کی اجرائی روک دی گئی تھی اور علحدگی اختیار کرنے والے جوڑوں کو طلاق کی بجائے خلع سرٹیفیکٹ حاصل کرنے پڑرہے تھے لیکن گذشتہ کئی دنوں سے وقف بورڈ حکام نے من مانی فیصلہ کرکے خلع سرٹیفیکٹ کیلئے غیر ضروری شرائط کا لزوم عائد کرکے عوام کیلئے مسائل پیدا کرنے شروع کردیئے ہیں۔ وقف بورڈ کے قضائت شعبہ کے عملہ سے خلع دستاویزات کے حصول کیلئے پہنچنے والوں کے ساتھ بدتمیزی سے عوام میں شدید ناراضگی ہے ۔ کہا جا رہاہے کہ علحدگی اختیار کرچکے جوڑوں اور ان کے خاندان کے ساتھ اس طرح کا رویہ ناقابل برداشت ہے۔ خلع کی صورت میں علحدگی اختیار کرنے والوں میں جو کچھ معاملات طئے پاتے ہیں وہ قضائت دفتر میں ہوا کرتے ہیں اور فریقین کی جانب سے اسٹامپ پیپر پر تحریر اور دستخط گواہان وغیرہ کروائے جاتے ہیں لیکن اب وقف بورڈ میں درمیانی افراد کو فائدہ پہنچانے عہدیداروں سے شرائط عائد کرکے یہ کہا جا رہا ہے کہ اگر کوئی خلع کیلئے درخواست داخل کرتے ہیں تو انہیں اسٹامپ پیپر پر حلف نامہ داخل کرنا ہوگا اور اس حلفہ نامہ کے ادخال کے بعد ہی بورڈ سے خلع کا سرٹیفیکیٹ جاری کیا جائے گا جبکہ یہ تمام کاروائی قضائت کے دفتر میں قاضی کی موجودگی میں مکمل کی جاچکی ہوتی ہے ۔ اس کے علاوہ عہدیداروں کے من مانی احکام میں خلع سرٹیفیکیٹ کیلئے جس کا سرٹیفیکیٹ ہے اور جو درخواست گذار ہے اسے شخصی درخواست کے ادخال اور سرٹیفیکیٹ کی وصولی کیلئے حاضر ہونے کہا جا رہاہے جو کہ تکلیف دہ اور افسوسناک ہے۔ ذرائع کے مطابق وقف بورڈ عہدیدار اپنے اختیار ات کا بیجا استعمال کرکے ایسی شرائط کو نافذ کرنے کی کوشش میں ہیں جو وقف بورڈ کی آمدنی کو متاثر کرنے کا سبب بن رہی ہے ۔ دفتر ناظر القضائت سے جاری احکامات پر عہدیداروں اور شعبہ قضائت سے تفصیلات حاصل کرنے پر کہا جا رہاہے کہ ان نئے خطوط کا منفی اثر قضائت پر پڑنے لگا ہے اس کے باوجود کسی کو کوئی پرواہ نہیں ہے جبکہ اگر قانونی اعتبار سے وقف بورڈ شعبہ قضائت کا جائزہ لیا جائے تو وقف بورڈ کو قضائت معاملات میں مداخلت کا کوئی اختیار نہیں ہے اور نہ ہی 2025 وقف مرممہ ایکٹ قضائت کے امور کے متعلق کوئی صراحت کرتا ہے ۔3