تلنگانہ ووٹر لسٹ سے تقریباً 15 فیصد نام حذف ہونے کا اندیشہ

   

تاحال 48 لاکھ سے زائد نام غیر حاضر ، متوفی اور منتقل ہونے والوں میں شامل

حیدرآباد۔یکم۔اگسٹ۔(سیاست نیوز) تلنگانہ کی فہرست رائے دہندگان میں مجموعی طور پر 15فیصد کے قریب رائے دہندوں کے نام حذف کئے جانے کے خدشات پائے جانے لگے ہیں او رکہا جارہاہے کہ تاحال 48 لاکھ سے زائد ناموں کو غیر حاضر‘ متوفی اور مستقل طور پر منتقل ہونے والوں کی فہرست میں شامل کیا جاچکا ہے اوراب جبکہ الیکشن کمیشن آف انڈیا کی جانب سے SIR کے فارمس کے ادخال کی تاریخ میں توسیع کی گئی ہے تو ایسی صورت میں حذف ہونے والے رائے دہندوں کی تعداد میں مزید اضافہ کے قیاس لگائے جارہے ہیں۔ بتایاجاتا ہے کہ تلنگانہ کے بیشتر اضلاع سے بڑی تعداد میں فارمس موصول ہوچکے ہیں لیکن شہری اضلاع بالخصوص حیدرآباد‘ رنگاریڈی ‘ اور میڑچل ۔ ملکا جگری سے موصول ہونے والے فارمس کی تعداد میں نمایاں گراوٹ ریکارڈ کی جا رہی ہے جو کہ ان اضلاع کے حلقہ جات اسمبلی کی فہرست رائے دہندگان سے بڑی تعداد میں ناموں کے حذف کئے جانے کی علامت ہے۔ تلنگانہ کے 3کروڑ38لاکھ رائے دہندوں میں اگر 48 لاکھ رائے دہندوں کے ناموں کو حذف کیا جاتاہے تو ایسی صورت میں ریاست تلنگانہ کے رائے دہندوں کی مجموعی تعداد میں زبردست گراوٹ ریکارڈ کی جائے گی۔تفصیلات کے مطابق تلنگانہ میں تاحال جو48لاکھ30ہزاررائے دہندوں کے فارمس موصول نہیں ہوئے ہیں ان میں 28 لاکھ 70ہزار ایسے رائے دہندوں کی نشاندہی کی گئی ہے جو کہ مستقل طور پر منتقل ہوچکے ہیں اور ان کا مجموعی فیصد 8.5 ہے۔ عہدیداروں کا کہناہے کہ غیر موصولہ فارمس میں سب سے بڑی تعداد منتقل ہونے والے رائے دہندوں کی ہے جو کہ اپنے پتہ پر جہاں وہ بہ حیثیت رائے دہندہ اندراج کروائے ہوئے تھے وہاں سے منتقل ہوچکے ہیں جبکہ دوسرے نمبر پر 8لاکھ60 ہزار ایسے رائے دہندوں کی نشاندہی کی گئی ہے جو متوفی ہونے کے باوجود فہرست رائے دہندگان میں موجودتھے۔ بتایاجاتاہے کہ متوفی رائے دہندوں کا فیصد منتقل ہونے والے رائے دہندوں کے مقابلہ میں معمولی رہا ہے جبکہ 5لاکھ80 ہزار ایسے رائے دہندوں کی نشاندہی کی گئی جو کہ ایک سے زائد مرتبہ فہرست رائے دہندگان میں اپنے نام رکھتے تھے۔ذرائع کے مطابق ان ناموں کو حذف کرنے کے سلسلہ میں اقدامات کئے جانے لگے ہیں اور اس کے بعد اگر کسی رائے دہندے کا نام حذف ہوتا ہے تو اسے اعتراض یا ادعاجات داخل کرنے کا حق حاصل ہوگا اسی لئے عوام کو پریشان ہونے کے بجائے اپنے فارمس جلد از جلد جمع کروانے پر توجہ مرکوز کرنی چاہئے ۔الیکشن کمیشن آف انڈیا نے فارمس کی وصولی کے سلسلہ میں آخری تاریخ3 اگسٹ سے بڑھا کر اسے 10اگسٹ کردیا ہے اور جو اب تک اپنے فارمس جمع کروانے سے قاصر رہے ہیں وہ اس مدت کے دوران اپنے فارمس بی ایل او کے پاس جمع کرواسکتے ہیں۔3/a/b