ایک سال قبل انتخابی حکمت عملی طئے کرنے کا فیصلہ ، قومی قائدین دورہ کریں گے
حیدرآباد ۔5 ۔ڈسمبر (سیاست نیوز) گجرات اسمبلی انتخابات کے فوری بعد وزیراعظم نریندر مودی نے تلنگانہ پر توجہ مرکوز کی ہے۔ پارٹی کی قومی عاملہ کا دو روزہ اجلاس آج نئی دہلی میں شروع ہوا جس میں وزیراعظم نریندر مودی اور پارٹی کے قومی صدر جے پی نڈا شریک ہیں۔ اجلاس میں آئندہ سال ہونے والے اسمبلی انتخابات کی تیاریوں کا جائزہ لیا گیا ۔ تلنگانہ ، کرناٹک ، راجستھان ، مدھیہ پردیش ، تریپورہ اور چھتیس گڑھ اسمبلی انتخابات میں پارٹی کی حکمت عملی کو قطعیت دی جارہی ہے ۔ باوثوق ذرائع کے مطابق تلنگانہ میں پارٹی کے استحکام کیلئے قائدین سے رائے طلب کی گئی۔ ٹی آر ایس اور بی جے پی کے درمیان کشیدہ صورتحال کے پیش نظر بی جے پی قیادت نے قائدین کو مزید متحرک کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ دونوں پارٹیاں اپنی تحقیقاتی ایجنسیوں کا ایک دوسرے خلاف استعمال کر رہی ہیں۔ دہلی کے لکر اسکام میں سی بی آئی کی جانب سے کویتا کو نوٹس کی اجرائی اور ارکان اسمبلی خریدی معاملہ میں بی جے پی کے قومی جنرل سکریٹری سنتوش کو خصوصی تحقیقاتی ٹیم کی نوٹس سے پیدا شدہ صورتحال کا جائزہ لیا گیا ۔ منوگوڑ کے حالیہ ضمنی چناؤ میں بی جے پی امیدوار راج گوپال ریڈی کی شکست کی وجوہات کا جائزہ لیا جارہا ہے ۔ بتایا جاتا ہے کہ تلنگانہ میں پارٹی کے قومی قائدین کو متحرک کیا جائے گا تاکہ اسمبلی انتخابات کی تیاریاں ابھی سے شروع کردی جائیں ۔ قائدین کا احساس ہے کہ ایک سال مسلسل محنت کرتے ہوئے تلنگائنہ میں اقتدار حاصل کیا جاسکتا ہے ۔ دوباک اور حضور آباد میں کامیابی کے بعد بی جے پی تلنگانہ پر توجہ مرکوز کی ہے۔ اطلاعات کے مطابق ریاستی صدر بنڈی سنجے کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ پد یاترا کے بجائے بس یاترا کا اہتمام کریں تاکہ مختصر مدت میں تمام اضلاع کا احاطہ کیا جاسکے ۔ر