تلنگانہ کابینہ میں توسیع کے مسئلہ پر آئندہ ماہ ہائی کمان سے مشاورت

   

اکتوبر کے پہلے ہفتہ میں چیف منسٹر کی دہلی روانگی، 6 وزراء میں مسلم وزیر کی لازمی شمولیت
حیدرآباد ۔27۔ ستمبر (سیاست نیوز) تلنگانہ میں کابینہ کی توسیع کے مسئلہ پر آئندہ ماہ کے پہلے ہفتہ میں ہائی کمان سے منظوری حاصل کرنے کی چیف منسٹر ریونت ریڈی تیاری کر رہے ہیں۔ کانگریس ہائی کمان نے جموں کشمیر اور ہریانہ اسمبلی انتخابات کے اختتام کے بعد ہی کابینہ میں توسیع کے مسئلہ پر مشاورت کا فیصلہ کیا جس کے سبب چیف منسٹر کے حالیہ دوروں کے موقع پر راہول گاندھی اور سونیا گاندھی سے ملاقات نہیں ہوپائی۔ باوثوق ذرائع کے مطابق 2 اکتوبر تک پنڈتوں نے کوئی بھی کام شروع نہ کرنے کا مشورہ دیا ہے۔ پنڈتوں کے مطابق 2 اکتوبر تک اچھے دن نہیں ہے، لہذا چیف منسٹر اکتوبر کے پہلے ہفتہ میں نئی دہلی روانگی کا منصوبہ رکھتے ہیں تاکہ کابینہ میں توسیع کیلئے ہائی کمان کی منظوری حاصل کی جائے ۔ تلنگانہ کابینہ میں اسمبلی کی عددی طاقت کے اعتبار سے 18 وزراء کی گنجائش ہے اور فی الوقت چیف منسٹر کے بشمول جملہ 12 وزراء ہیں۔ 6 وزراء کی شمولیت کی گنجائش ہے جس کے لئے مختلف طبقات کی جانب سے زبردست پیروی کی جارہی ہے ۔ اسمبلی انتخابات سے قبل کانگریس ہائی کمان نے بعض قائدین کو کابینہ میں شامل کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ اس کے علاوہ چیف منسٹر ریونت ریڈی نے بی آر ایس سے شامل ہونے والے بعض ارکان کو کابینی عہدہ کا تیقن دیا۔ اب جبکہ کابینہ میں محض 6 ارکان کی شمولیت کی گنجائش ہے، کمزور اور اعلیٰ طبقات کے قائدین میں رسہ کشی شروع ہوچکی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ ریڈی طبقہ کو دو وزارتی عہدے دیئے جاسکتے ہیں جبکہ باقی 4 میں ایس سی ، ایس ٹی ، بی سی اور مسلم اقلیت کو نمائندگی دی جائے گی۔ خواتین کی نمائندگی میں اضافہ کیلئے ریڈی طبقہ سے محض ایک وزیر کو شامل کرتے ہوئے خاتون وزیر کو موقع دیاجاسکتا ہے ۔ ذرائع نے بتایا کہ چیف منسٹر نے کابینہ میں شمولیت کے دعویدار کئی وزراء کو تیقن دیا کہ انہیں حکومت میں اہم کارپوریشنوں پر نامزد کیا جائے گا جنہیں کابینی درجہ حاصل رہے گا۔ جن کارپوریشنوں کے صدورنشین کو کابینی درجہ دیا جائے گا ، ان میں یادگیر گٹہ ٹمپل ڈیولپمنٹ اتھاریٹی ، موسی ریور فرنٹ ڈیولپمنٹ کارپوریشن ، ٹرانسکو ، جینکو اور میڈیکل انفراسٹرکچر کارپوریشن شامل ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ بی آر ایس سے شامل ہونے والے ارکان کو وزارت میں شامل کرنے یا کسی کارپوریشن پر مامور کرنے میں قانونی رکاوٹ درپیش ہے۔ تلنگانہ ہائی کورٹ میں دو علحدہ مقدمات منحرف ارکان کے خلاف زیر دوران ہیں۔ کابینہ میں شمولیت کے اہم دعویداروں میں پی سدرشن ریڈی ، کے راج گوپال ریڈی ، مال ریڈی رنگا ریڈی اور ٹی رام موہن ریڈی کا تعلق ریڈی طبقہ سے ہے جبکہ بی سی طبقہ سے اے سرینواس اور ایس سی طبقہ سے اے لکشمن کے علاوہ ایس ٹی طبقہ سے بالو نائک کے نام زیر گشت ہے۔ مسلم اقلیت کی نمائندگی کے سلسلہ میں کانگریس ہائی کمان کے پاس اگرچہ بعض مسلم قائدین نے دعویداری پیش کی لیکن واحد مسلم ایم ایل سی کے طور پر جناب عامر علی خاں کی شمولیت کے امکانات روشن ہیں۔ چیف منسٹر ریونت ریڈی نے اطلاعات کے مطابق 4 وزراء کے ناموں کا انتخاب ہائی کمان پر چھوڑ دیا ہے اور وہ دو وزراء کی شمولیت کے بارے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ چیف منسٹر کے قریبی ذرائع کے مطابق اکتوبر کے پہلے ہفتہ میں ہائی کمان ریاستی کابینہ میں توسیع کے بارے میں فیصلہ کرے گا۔ 1