مسلم وزیر کو شامل کرنے پر زور ، صدر کانگریس ملکارجن کھرگے کو تلنگانہ مسلم ایڈوکیٹس فورم کا مکتوب
حیدرآباد۔11۔جون(سیاست نیوز) تلنگانہ ریاستی کابینہ میں مسلم چہرہ کو شامل نہ کیا جانا کانگریس کے 1992کے حالات کی یاد تازہ کر رہا ہے۔آل تلنگانہ مسلم ایڈوکیٹس فورم نے صدر آل انڈیا کانگریس پارٹی مسٹر ملکارجن کھرگے کو مکتوب روانہ کرتے ہوئے شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ فوری طور پر تلنگانہ ریاستی کابینہ میں مسلم وزیر کو شامل کروانے کے اقدامات کئے جائیں۔صدر فورم جناب شیخ احمد ایاز نے کانگریس ہائی کمان کو روانہ کئے گئے مکتوب میں کہا کہ انتخابات سے قبل مسلم ووٹوں کے حصول کے لئے کانگریس نے ایڑی چوٹی کا زور لگایا اور مسلمانوں نے ریاستی اسمبلی اور عام انتخابات کے دوران کانگریس کو ووٹ دیتے ہوئے کامیاب بنانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی جس کے نتیجہ میں تلنگانہ میں کانگریس کو اقتدار حاصل ہوا۔انہو ںنے بتایا کہ تلنگانہ میں 12فیصد مسلمانوں کی آبادی ہونے کے باوجود مسلمانوں کو نظر انداز کئے جانے پر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ کانگریس مسلمانوں کو خود سے دور کرنا چاہتی ہے ۔ انہو ںنے 1992 میں بابری مسجد کی شہادت کے بعد پیدا شدہ حالات کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ بابری مسجد کی شہادت کے بعد مسلمانوں نے کانگریس کو اقتدار سے بے دخل کردیا تھا اور 10 سال تک کانگریس اقتدار سے دور رہی ۔جناب شیخ احمد ایاز نے بتایا کہ تلنگانہ میں جو حالات پیدا کئے جا رہے ہیں انہیں دیکھتے ہوئے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ منظم انداز میں مسلمانوں کو کانگریس متنفر کرنے کی سازش تیار کرتے ہوئے اس پر عمل کیا جا رہاہے اور اسی لئے ریاستی کابینہ میں دوسری توسیع کے باوجود بھی مسلمان کو کابینہ میں شامل نہیں کیاگیا۔ انہوں نے صدر آل انڈیا کانگریس کمیٹی کو روانہ کئے گئے مکتوب میں استفسار کیا کہ آیا کانگریس نے اس بات کا فیصلہ کرلیا ہے کہ وہ تلنگانہ میں دوبارہ اقتدار حاصل کرنے کے حق میں نہیں ہے!انہوں نے بتایا کہ تلنگانہ میں مسلمانوں کی قابل لحاظ آبادی موجود ہے اور اس آبادی کو نظر انداز کرتے ہوئے سماجی انصاف کا دعویٰ نہیں کیا جاسکتا اسی لئے فوری طور پر ریاستی کابینہ میں اور پارٹی قیادت میں مسلمانوں کو فوری طور پر نمائندگی دینے کے اقدامات کئے جائیں تاکہ مسلمانوں میں پھیلنے والی ناراضگی کو دور کیا جاسکے اور ان میں اعتماد پیدا کیا جاسکے کہ ریاستی حکومت اور کانگریس پارٹی مسلمانوں کے ساتھ ہے۔3