معاشی بحران پر عارضی قابو، جاریہ ماہ ریتو بندھو اسکیم کیلئے 7000 کروڑ کا انتظام بہت بڑا چیلنج
حیدرآباد ۔ 4 جون (سیاست نیوز) تلنگانہ پر سے معاشی بحران ٹلنے کے قوی امکانات دکھائی دے رہے ہیں۔ مرکزی حکومت نے تلنگانہ کو عام مارکٹ سے 4000 کروڑ روپئے قرض حاصل کرنے کی منظوری دیتے ہوئے بہت بڑی راحت فراہم کی ہے۔ آر بی آئی منگل کو 13 سالہ حد پر مشتمل بانڈس ہراج (نیلام) کرنے کیلئے نوٹیفکیشن جاری کیا ہے حالانکہ تلنگانہ حکومت نے نئے مالیاتی سال جون تک 11 ہزار کروڑ روپئے کا قرض حاصل کرنے کا نشانہ مقرر کیا تھا۔ تاہم مرکزی حکومت نے ایف آر پی ایم کے نئے قواعد کے نام پر گذشتہ دو ماہ سے تلنگانہ کو قرض حاصل کرنے کی منظوری نہیں دے رہی ہے۔ تلنگانہ حکومت کی اپیل پر عارضی طور پر حصول قرض کی منظوری دی ہے۔ مرکزی محکمہ فینانس نے تمام ریاستوں کو مکتوب روانہ کرتے ہوئے بتایا کہ بجٹ سے باہر کارپوریشنس کے ذریعہ حاصل کئے جانے والے قرضوں کو بھی ایس آر ڈی بی ایم کے حدود میں شامل کرنے کے فیصلہ سے واقف کرایا۔ اس کے علاوہ گذشتہ دو سال سے بجٹ کے باہر لئے گئے قرضوں کو بھی شمار کرتے ہوئے موجودہ مالیاتی سال کے ایس آر ڈی بی ایم کی حد مقرر کا مکتوب کے ذریعہ ریاستوں کو بتایا گیا۔ ریاستی حکومت سے قرضوں کی تفصیلات طلب کی ہے۔ اس کی معلومات تک بازار سے نئے قرض حاصل کرنے میں رکاوٹیں پیدا کردی جس پر تلنگانہ حکومت نے سخت اعتراض کیا۔ حصول قرض کیلئے ماضی کے طریقہ کار پر عمل کرنے کا مرکزی حکومت سے مطالبہ کیا۔ اس معاملہ میں مرکز کو مکتوب روانہ کرنے کے علاوہ محکمہ فینانس کے ریاستی اسپیشل سکریٹری کے راما کرشنا نے دہلی پہنچ کر مرکزی محکمہ فینانس سکریٹری سے ملاقات کی۔ ریاستی حکومت کی رائے پیش کرتے ہوئے حصول قرض کیلئے منظوری دینے کی نمائندگی کی تھی۔ ابھی تک چند ریاستوں نے مرکز کے نئے ضوابطے پر عمل کرتے ہوئے قرض حاصل کیا تاہم تلنگانہ حکومت نے قدیم روایت پر عمل کرنے کا مرکز پر زور دیا تھا جس کی وجہ تعطل کی صورتحال پیدا ہوگئی تھی۔ فی الحال تلنگانہ کو قرض حاصل کرنے کی منظوری دی گئی ہے مگر جاریہ سال کتنا قرض دیا جائے گا اس کی ابھی وضاحت نہیں ہوئی ہے۔ ریاست میں آمدنی اور اخراجات کے درمیان فرق بدستور جاری ہے جس کی وجہ سے محکمہ فینانس کو ہر ماہ تنخواہوں، پنشن، سبسیڈیز، سود کی ادائیگی کے علاوہ ریاستی حکومت کی ترجیحی اسکیمات کیلئے فنڈز کے انتظامات کرنے میں کافی جدوجہد کرنا پڑرہا ہے۔ دوسری جانب اس ماہ ریتو بندھو اسکیم کے تحت 7000 کروڑ روپئے کا بھی انتظام کرنا ہے۔ ان حالت میں مرکز کی جانب سے 4000 کروڑ روپئے قرض حاصل کرنے کی منظوری حاصل ہونے پر ریاست کو کچھ حد تک راحت محسوس کررہی ہے۔ن