تلنگانہ کی 10 یونیورسٹیز کے وائس چانسلرس کے تقررات میں تاخیر

   

1382 درخواست گذار اُلجھن میں، اسمبلی بجٹ سیشن کے بعد پیشرفت کا امکان

حیدرآباد 29 جولائی (سیاست نیوز) تلنگانہ کی 10 یونیورسٹیز کے وائس چانسلرس کے تقررات کا عمل اچانک تعطل کا شکار ہوگیا جس کے نتیجہ میں یونیورسٹیز کی کارکردگی متاثر ہوئی ہے۔ چیف منسٹر ریونت ریڈی نے 2 ماہ قبل ہی وائس چانسلرس کے تقررات کا عمل مکمل کرنے کا فیصلہ کیا تھا لیکن وائس چانسلرس کی میعاد ختم ہونے کے بعد آئی اے ایس عہدیداروں کو انچارج مقرر کیا گیا۔ بتایا جاتا ہے کہ وائس چانسلر کے عہدوں کیلئے جاری مسابقت کا معاملہ کانگریس ہائی کمان تک پہونچ گیا۔ کئی وزراء اپنے قریبی افراد کو وائس چانسلر بنانے کیلئے ہائی کمان سے رجوع ہوئے اور جن افراد کے نام متوقع وائس چانسلر کے طور پر پیش کئے جارہے تھے، اُن کے بارے میں شکایات کی گئیں۔ بتایا جاتا ہے کہ وائس چانسلرس کے تقرر میں کمزور طبقات کو نظرانداز کرنے کی شکایت پر کانگریس ہائی کمان نے اسمبلی بجٹ سیشن تک تقررات کو موقوف کرنے کا مشورہ دیا۔ واضح رہے کہ 21 مئی کو 10 ریاستی یونیورسٹیز کے وائس چانسلرس کی میعاد ختم ہوگئی اور حکومت نے مئی کے آخری ہفتہ میں سرچ کمیٹیاں قائم کیں جو وائس چانسلرس کے ناموں کی سفارش کریں گی۔ سرچ کمیٹیوں کا آج تک اجلاس نہیں ہوا جس کے نتیجہ میں آئی اے ایس عہدیداروں کو انچارج وائس چانسلرس کے طور پر برقرار رکھا گیا ہے۔ 3 رکنی سرچ کمیٹی میں یونیورسٹی ایگزیکٹیو کونسل کے ایک نمائندہ ریاستی حکومت کے ایک نمائندہ اور یونیورسٹی گرانٹس کمیشن کے نمائندہ کو شامل کیا گیا ہے۔ وائس چانسلر کے عہدہ کیلئے موصولہ درخواستوں کی جانچ کے بعد اُنھیں سرچ کمیٹیوں کے حوالے کردیا گیا لیکن کمیٹیوں کا اجلاس منعقد نہیں ہوا جس کے نتیجہ میں تقررات کا عمل تعطل کا شکار ہے۔ 10 یونیورسٹیز کے لئے جملہ 1382 درخواستیں داخل کی گئیں اور خواہشمند امیدواروں میں بے چینی دیکھی جارہی ہے۔ ماہرین تعلیم کا کہنا ہے کہ تقررات میں تاخیر کے نتیجہ میں یونیورسٹیز میں تدریسی اور غیر تدریسی سرگرمیاں متاثر ہوئی ہیں۔ تلنگانہ کی سب سے بڑی یونیورسٹی جے این ٹی یو حیدرآباد کیلئے پرنسپل سکریٹری محکمہ تعلیم بی وینکٹیشم کو انچارج مقرر کیا گیا۔ عثمانیہ یونیورسٹی کیلئے پرنسپل سکریٹری بلدی نظم و نسق دانا کشور کو انچارج مقرر کیا گیا۔ واضح رہے کہ حکومت نے وائس چانسلرس کے تقررات کے لئے 27 جنوری کو نوٹیفکیشن جاری کیا تھا۔ سب سے زیادہ 208 درخواستیں ڈاکٹر بی آر امبیڈکر اوپن یونیورسٹی کیلئے داخل کی گئیں۔ عثمانیہ یونیورسٹی 193 درخواستوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہے جبکہ پالمور یونیورسٹی 159 درخواستوں کے ساتھ تیسرے مقام پر ہے۔ مہاتما گاندھی یونیورسٹی کے لئے 157 ، کاکتیہ یونیورسٹی 149، تلنگانہ یونیورسٹی 135، جے این ٹی یو حیدرآباد 106، تلگو یونیورسٹی 66 اور جواہر لال نہرو فائن آرٹس یونیورسٹی کیلئے 51 درخواستیں داخل کی گئیں۔1