طلبہ ’ٹیٹ‘امتحان کے منتظر ۔ سابق ٹیٹ کامیاب امیدواروں کی اہلیت ختم
حیدرآباد ۔ /23 جولائی (سیاست نیوز) ریاست تلنگانہ کے سرکاری اسکولوں میں اساتذہ کی مخلوعہ جائیدادوں پر تقررات عمل میں لانے کیلئے منعقد کئے جانے والے ’ٹیٹ ۔
TET‘
(ٹیچرس اہلیتی ٹسٹ) کے انعقاد سے متعلق دور تک بھی آثار دکھائی نہیں دے رہے ہیں ۔ جس کی وجہ سے اس ٹسٹ میں شرکت کے خواہشمند امیدواروں میں سخت تشویش ہی نہیں بلکہ شدید الجھن پائی جارہی ہے کیونکہ گزشتہ زائد از دو سال کے عرصہ میں حکومت کی جانب سے ’’ٹیٹ‘‘ کا انعقاد عمل میں نہیں لایا گیا ۔ بتایا جاتا ہے کہ اساتذہ کے تقررات سے متعلق حکومت دوہرا معیار اختیار کررہی ہے ۔ ایکطرف سرکاری مدارس کی مخلوعہ جائیدادوں پر تقررات عمل میں لانے کیلئے ٹال مٹول کی پالیسی اختیار کررہی ہے تو دوسری طرف ٹی آر ٹی (ٹیچرس رکرورٹمنٹ ٹسٹ) کے ذریعہ اساتذہ کی جائیدادوں پر تقررات عمل میں لانے کی اجازت دینے کے ساتھ ساتھ بی سی اقامتی اسکولس میں ٹیچرس کی جائیدادوں کو پر کرنے کیلئے اجازت دی جارہی ہے ۔ لیکن ان جائیدادوں پر تقررات کیلئے بھی درخواستیں پیش کرنے کیلئے ’’ٹیٹ‘‘ کامیاب ہونا ضروری ہے اور حکومت ٹیٹ منعقد کرنے سے گریز کررہی ہے جس کی وجہ سے امیدوار کسی بھی نوعیت کی جائیدادوں پر درخواستیں پیش کرنے سے محروم ہورہے ہیں ۔ بتایا جاتا ہے کہ متحدہ ریاست آندھراپردیش اور تلنگانہ سے ملاکر چھ مرتبہ ’’ٹیٹ‘‘ کا انعقاد عمل میں لایا گیا
اور ایک مرتبہ ٹیٹ میں کامیابی حاصل کرلینے پر یہ کامیابی 7 سال کیلئے قابل عمل (سات سال تک دوبارہ ٹیٹ دینے کی ضرورت نہیں رہے گی ) رہے گی ۔ لیکن گزشتہ عرصہ کے دوران منعقدہ چھ ٹیٹس کے منجملہ ابتدائی (3) ٹیٹس کے امیدواروں کی اہلیت اب تک ہی ختم ہوچکی ہے ۔ اسی ذرائع کے مطابق بتایا جاتا ہے کہ تلنگانہ میں ٹیٹ کا انعقاد عمل میں لاتے ہوئے دو سال مکمل ہوچکے ہیں ۔ اس کے باوجود ریاستی محکمہ تعلیم ٹیٹ کا انعقاد عمل میں لانے سے گریز کررہا ہے جبکہ حالیہ دنوں میں حکومت نے ٹی آر ٹی کے ذریعہ 1698 جائیدادوں پر تقررات عمل میں لانے کی اجازت دی ہے ۔ بتایا جاتا ہے کہ ریاست تلنگانہ میں سال 2016 ء میں پہلی مرتبہ ماہ مئی میں ٹیٹ کا انعقاد عمل میں لایا گیا اور پھر دوسری مرتبہ سال 2017 ء میں بھی ٹیٹ کا انعقاد عمل میں لایا گیا اور بعد ازاں کوئی ٹیٹ منعقد کیا گیا ۔ اس دو سال کے دوران بی ایڈ اور ڈی ایڈ کورسیس میں کامیابی حاصل کرنے والوں کی تعداد تقریباً 50 ہزار سے زائد ہوسکتی ہے ۔ اس طرح بتایا جاتا ہے کہ ٹیٹ کی اہلیتی مدت مکمل کرنے والے اور ٹیچرس ٹریننگ کورسیس کی تکمیل کرنے والے امیدواروں کی تعداد بڑھ کر زائد از 2.30 لاکھ تک پہونچ سکتی ہے اوریہ تمام امیدوار دوبارہ ٹیٹ میں شرکت کے منتظر ہیں ۔ اسی ذرائع کے مطابق بتایا جاتا ہے کہ حقیقت تو یہ ہے کہ قانون حق تعلیم 2009 ء کے مطابق ہر چھ ماہ میں ایک مرتبہ قومی سطح پر ’’سی ٹیٹ‘‘ اور ریاستی سطح پر ’’ٹیٹ
TET
‘‘ منعقد کرنا ضروری ہے ۔ جبکہ متحدہ ریاست آندھراپردیش میں ٹیٹ کے انعقاد پر عمل آوری کی گئی ۔ لیکن علحدہ ریاست تلنگانہ کی تشکیل کے بعد صرف سال میں ایک مرتبہ ہی ٹیٹ کا انعقاد عمل میں لانے کے طریقہ کار کو مرتب کرکے حکومت نے باقاعدہ احکامات بھی جاری کی ہے ۔ لیکن ان احکامات کے باوجود بھی خود ریاستی حکومت نے دو مرتبہ ٹیٹ کا انعقاد عمل میں لانے کے بعد پھر اب گزشتہ دو سال کے دوران ٹیٹ منعقد نہیں کیا گیا ۔ اسی دوران ریاستی کمشنر محکمہ اسکولی تعلیم مسٹر وجئے کمار نے بتایا کہ ٹیٹ منعقد کرنے کے تعلق سے ریاستی حکومت کو رپورٹ پیش کی گئی اور حکومت سے اجازت حاصل ہونے کے ساتھ ہی فی الفور ٹیٹ کا انعقاد عمل میں لانے کیلئے اعلامیہ (نوٹیفیکیشن) جاری کیا جائے گا ۔