تلنگانہ کے طلباء بھی دہلی کے جنتر منتر پر احتجاج کیلئے تیار

   

فیس باز ادائیگی اور اسکالرشپس میں تاخیر کے معاملہ کو قومی سطح پر اجاگر کرنے کا منصوبہ
حیدرآباد۔15۔ستمبر۔(سیاست نیوز) ڈگری کالجس کے انتظامیہ کے بعد اب تلنگانہ کے طلبہ نے بھی فیس باز ادائیگی اور اسکالرشپس کے معاملہ پر دہلی میں احتجاج کرنے پر غور کرنا شروع کردیا ہے ۔ ان کاکہناہے کہ اگر حکومت تلنگانہ ان کے فیس بازادائیگی بقایا جات اور اسکالرشپس کی رقومات جاری نہیں کرتی ہے تو وہ دہلی پہنچ کر ’جنتر منتر‘ پر احتجاج سے بھی گریز نہیں کریں گے۔ طلبہ کا کہناہے کہ حکومت تلنگانہ 8 ہزار کروڑ سے زائد بقایا جات کالجس کو ادا شدنی ہے جس کے نتیجہ میں لاکھوں طلبہ متاثر ہورہے ہیں اور ان طلبہ کو راحت پہنچانے کے نام پر کالجس کے انتظامیہ کو احکام جاری کر رہی ہے کہ وہ طلبہ کے تعلیمی اسنادات نہ روکیں لیکن ان احکام کے خلاف کالجس کے انتظامیہ عدالت سے احکام حاصل کرنے لگے ہیں کالجس انتظامیہ اور حکومت کے درمیان رسہ کشی سے طلبہ کو اپنے کورس کی تکمیل کے باوجود اسنادات سے محروم رہنا پڑرہا ہے اور لاکھوں طلبہ اپنے اسنادات نہ ہونے کے سبب ملازمت کے حصول سے محروم ہونے لگے ہیں ۔تلنگانہ میں فیس بازادائیگی اسکیم و اسکالرشپس کے ذریعہ تعلیم پانے والے طلبہ کو اپنے اسنادات کے حصول کیلئے مکمل فیس ادا کرنی پڑرہی ہے اور بیشتر کالجس کی جانب سے فیس کی عدم ادائیگی پر اسنادات نہ دیئے جانے کے سبب مشکلات کاسامنا کرنا پڑرہا ہے۔ بتایا جاتاہے کہ ڈگری کالجس کے انتظامیہ نے ’جنتر منتر‘ پر احتجاج منعقد کرنے کی منصوبہ بندی کی ہے تاکہ حکومت پر دباؤ ڈال کر انہیں وصول طلب بقایا جات حاصل کئے جاسکیں دوسری جانب طلبہ نے بھی ’جنترمنتر‘ پر احتجاج کرکے تلنگانہ میں فیس بازادائیگی و اسکالرشپس کی عدم اجرائی کے معاملہ کو قومی سطح پر لیجانے کی منصوبہ بندی شروع کردی ہے۔ذرائع کے مطابق تلنگانہ کالجس کے طلبہ نے کسی طلبہ تنظیم یا سیاسی جماعت کی مدد کے بغیر دہلی میں احتجاج کے متعلق غور کرنا شروع کردیا ہے اور کہا جارہاہے کہ وہ اپنے اسنادات کے مسئلہ کو قومی سطح پر اٹھاکر حکومت کی توجہ اس مسئلہ پر مبذول کروانے کی کوشش کر رہے ہیں۔3/k/b