تلنگانہ کے 17 لوک سبھا حلقوں میں 66.30 فیصد رائے دہی

   

گذشتہ چناؤ سے 3 فیصد کا اضافہ، تمام لوک سبھا حلقوں میںاضافہ درج، شہری علاقوں میں مایوس کن رائے دہی
حیدرآباد۔/15 مئی، ( سیاست نیوز) تلنگانہ کی 17 لوک سبھا نشستوں کیلئے رائے دہی میں گذشتہ انتخابات کے مقابلہ اضافہ درج کیا گیا لیکن شہری علاقوں میں رائے دہی میں کمی عہدیداروں اور سیاسی پارٹیوں دونوں کیلئے تشویش کا باعث بنی ہوئی ہے۔ 17 لوک سبھا حلقوں میں مجموعی طور پر 66.30 فیصد ووٹنگ ہوئی جو گذشتہ 2019 الیکشن کے مقابلہ 3 فیصد زیادہ ہے۔ گذشتہ چناؤ میں 62.77 فیصد رائے دہی ہوئی تھی۔ تلنگانہ کے چناؤ میں ای وی ایم مشینوں کے ذریعہ 65.67 فیصد رائے دہی ریکارڈ کی گئی جبکہ پوسٹل بیالٹ کے ذریعہ 0.63 فیصد رائے دہی ہوئی جو مجموعی طور پر 66.30 فیصد ہوتی ہے۔ چیف الیکٹورل آفیسر وکاس راج کے مطابق تمام 17 لوک سبھا حلقوں میں گذشتہ چناؤ کے مقابلہ رائے دہی کے فیصد میں اضافہ ہوا لیکن حیدرآباد، سکندرآباد اور ملکاجگیری لوک سبھا حلقوں میں گذشتہ کے مقابلہ اضافی رائے دہی کے باوجود دیگر حلقوں سے کم ووٹنگ رہی۔ ریاست میں سب سے زیادہ 76.78 فیصد رائے دہی بھونگیر میں ریکارڈ کی گئی جبکہ حیدرآباد میں سب سے کم 48.48 فیصد رائے دہی۔ جملہ رائے دہندوں 33216348 میں 22024806 نے حق رائے دہی سے استفادہ کیا۔ 22024806 رائے دہندوں میں 21814035 نے 35809 پولنگ اسٹیشنوں پر حق رائے دہی سے استفادہ کیا جبکہ 210771 رائے دہندوں نے پوسٹل بیالٹ سے استفادہ کیا۔ الیکشن کمیشن کے مطابق ای وی ایم مشینوں کو اسٹرانگ رومس میں محفوظ کردیا گیا ہے اور اس کے لئے تین درجوں کے تحت سیکوریٹی فراہم کی گئی۔ رائے شماری کیلئے 4 جون کو ریاست بھر میں 34 مراکز کا انتخاب کیا گیا ہے۔ 2014 میں 69 فیصد رائے دہی درج کی گئی تھی جبکہ 2019 میں یہ بڑھ کر 62.77 فیصد ہوئی۔ریاست کے شہری علاقوں پر مشتمل حیدرآباد، سکندرآباد اور ملکاجگیری لوک سبھا حلقوں میں علی الترتیب 48.48 ، 49.04 اور 50.78 فیصد رائے دہی ریکارڈ کی گئی جبکہ 2019 میں تینوں حلقہ جات کی رائے دہی علی الترتیب 44.84 ، 46.51 اور 49.62 فیصد درج کی گئی تھی۔1