تلنگانہ ہائی کورٹ کی عمارت کو تین ریاستوں کے نام ملنے کا اعزاز

   

1919 میں تعمیر کردہ عمارت آج بھی دلکش اور پر شکوہ ، میر عثمان علی خاں کا تاریخی کارنامہ
حیدرآباد ۔ 25 ۔ نومبر : ( سیاست نیوز) : شہر حیدرآباد کی دلکش عمارتوں میں ہائی کورٹ کی عمارت بھی ایک ہے ۔ جس کو ساتویں نظام میر عثمان علی خاں نے تعمیر کروایا تھا ۔ ہائی کورٹ کی عمارت کا تعمیری کام 15 اپریل 1915 کو شروع ہوا اور 31 مارچ 1919 کو مکمل کرلیا گیا ۔ 20 اپریل 1920 کو ہائی کورٹ کی عمارت کا افتتاح ساتویں نظام میر عثمان علی خاں نے کیا ۔ ہائی کورٹ کی عمارت کا منصوبہ جئے پور کے شنکر لال نے تیار کیا تھا اور اس کا ڈیزائن کو انجام دینے والے مقامی انجینئر مہر علی فاضل تھے۔ چیف انجینئر نواب خان بہادر مرزا اکبر بیگ تھے ۔ عمارت کو سرخ اور سفید پتھروں کا استعمال کرتے ہوئے تعمیر کیا گیا جو عمارت کی خوبصورتی میں اضافہ کرتا ہے ۔ ہائی کورٹ موسیٰ ندی کے جنوبی کنارے میں واقع ہے یہ ریاست کی بہترین عمارتوں میں سے ایک ہے ۔ ابتداء میں شاہی ریاست حیدرآباد دکن کے لیے ہائی کورٹ آف حیدرآباد کے طور پر قائم کیا گیا تھا ۔ ریاست آندھرا پردیش کے قیام کے بعد اس کے نام کو تبدیل کرتے ہوئے ہائی کورٹ آف آندھرا پردیش رکھا گیا ۔ آندھرا اور تلنگانہ ریاستوں کی تقسیم کے بعد اسے ایکٹ 1956 کے تحت ہائی کورٹ آف تلنگانہ بنایا گیا ۔ ایک ہی ہائی کورٹ کو تین ریاستوں کے نام ملنے کا اعزاز بھی حاصل ہے ۔ 1936 میں سلور جوبلی تقریب منعقد کی گئی جس میں عدلیہ حکام کی جانب سے ساتویں نظام میر عثمان علی خاں کو چاندی کی چابی اور ہائی کورٹ سلور ماڈل پیش کیا گیا جو تقریبا 300 کیلو وزنی تھا ۔ اس ماڈل کو پرانی حویلی کے نظام عجائب گھر میں رکھا گیا ہے ۔ 1919 میں چھ ججس کی رہائش کے علاوہ دفتری عملہ ، ریکارڈ رومس اور ایڈوکیٹ ہال کی رہائشی مرکزی عمارت میں تعمیر کیا گیا ۔ 31 اگست 2009 کو عمارت میں ایک بڑی حادثاتی آگ لگی تھی جس میں لائبریری کا حصہ اور نایاب کتابیں اور پورٹریٹس کو شدید نقصان پہنچا ۔ 2006 میں گولڈن جوبلی تقریب منائی گئی جس میں صدر جمہوریہ ہند ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام نے شرکت کی تھی ۔ تقسیم ریاست کے بعد متحدہ ہائی کورٹ کو 26 دسمبر 2018 میں علحدہ ہائی کورٹ کرنے کے احکامات ملے اور یکم جنوری 2019 کو ہائی کورٹ آف تلنگانہ حیدرآباد میں مقرر کیا گیا اور ہائی کورٹ آف آندھرا پردیش کو آندھرا پردیش کو امراوتی منتقل کردیا گیا ۔۔ ش