حیدرآباد ۔ 28 ۔ مئی : ( سیاست نیوز ) : ریاست آندھرا پردیش میں تنالی میں تین افراد کو آئینی حقوق کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بے دردی سے پیٹنے پر ہیومن رائٹس فورم نے پولیس کی سخت مذمت کی ۔ شیوا ناگیشور راؤ ، راجیش اور روہت ہیومن رائٹس فورم کے قائدین نے سڑک پر تین افراد کی وحشیانہ پٹائی سے متعلق تنالی کے I ، II ، III پولیس اسٹیشنوں میں پولیس افسران کے خلاف بی این ایس اور ایس سی ؍ ایس ٹی ایکٹ کے تحت کارروائی کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے شکایت درج کروائی ۔ انہوں نے کہا کہ یہ ویڈیو 26 مئی کو سامنے آیا ۔ جس میں دو پولیس اہلکار تین نوجوانوں کو کھلے عام مار رہے تھے ۔ لیکن یہ ویڈیو 25 اپریل 2025 کا ہے ۔ جب چار نوجوان نوین ، جان ویکٹر ، کریم اللہ اور راکیش کے خلاف تنالی I ٹاون پولیس اسٹیشن کے ایک کانسٹبل کناچیرنجیو کی شکایت کے بعد بی این ایس کی مختلف دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا ۔ شکایت کنندہ نے الزام لگایا تھا کہ 24 اپریل کو ڈیوٹی کے دوران چار نوجوانوں نے سابقہ دشمنی کی وجہ سے اس پر حملہ کیا تھا ۔ شکایت کے بعد تنالی II ٹاون پولیس اسٹیشن میں ایف آئی آر درج کی گئی تھی تاہم ایچ آر ایف نے کہا کہ مناسب طریقہ کار پر عمل کرنے کے بجائے پولیس نے انہیں سبق سکھانے کے لیے انہیں عوام کے سامنے پیٹا ۔ پولیس کو کسی بھی شخص یا مجرم کو سرعام مارنے کا کوئی حق نہیں ہے ۔ آئین اور قانون میں کسی بھی مجرم سے نمٹنے کے لیے واضح طریقہ کار واضح کیا گیا ہے ۔۔ ش