توسیعی خطبہ ’’دکنی شاعری کی جمالیات‘‘ کا کامیاب انعقاد

   


حیدرآباد۔23 اکتوبر(پریس نوٹ) شعبۂ اُردو ‘ جامعہ عثمانیہ کے زیر اہتمام تیسرا بلقیس بیگم وقف توسیعی خطبہ بعنوان’’ دکنی شاعری کی جمالیات‘‘20؍ اکتوبر بمقام مانسیئر ارنسٹ جاسپر ’ای کلاس روم، آرٹس کالج میںمنعقد ہوا ۔مہمان خصوصی پروفیسر ڈی رویندر، وائس چانسلر جامعہ عثمانیہ‘مہمانِ اعزازی ڈاکٹر ساجد علی صاحب، فرزند بلقیس بیگم‘خطیب پروفیسر خواجہ محمد اکرام الدین‘جواہر لال نہرو یونیورسٹی (جے۔این۔یو) نئی دہلی ،مہمان ذی وقار پروفیسر ایس اے شکور، سابق صدر شعبہ اُردو جامعہ عثمانیہ‘کنوینر س ڈاکٹر انجم النساء (زیباؔ) ،ڈاکٹر محمدمشتاق احمد، اساتذۂ شعبہ اُردو جامعہ عثمانیہ و دیگر اسٹاف شامل تھے۔اس موقع پر طلباء و طالبات‘ریسرچ اسکالرس و دیگر سامعین کی کثیر تعداد موجود تھیں۔اجلاس کی شروعات میں ڈاکٹر زیبا انجم نے بلقیس بیگم کا تعارف پیش کرتے ہوئے کیا۔ جناب پروفیسر ایس اے شکور نے اپنے تاثرات پیش کرتے ہوئے کہا کہ بلقیس بیگم کے خاندان نے علمی وادبی خدمات میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔اس لکچر کے خطیب جناب خواجہ محمد اکرام الدین نے ’’دکنی شاعری کی جمالیات‘‘ کے تناظر میں شمال وجنوب کی شاعری میں دکنی پس منظر کو پیش کیا ۔پروفیسر خواجہ محمد اکرام الدین نے معلوماتی لکچر سے سامعین کو محظوظ کیا۔