تہاڑ جیل کے قیدی نے موبائل نگل لیا،بغیر آپریشن نکالا گیا موبائل

   

نئی دہلی: تہاڑ جیل میں ایک قیدی نے پولیس سے بچنے کیلئے موبائل فون نگل لیا، جس کی وجہ سے اسے جیل سے ڈی ڈی یو ہاسپٹل میں داخل کرایا گیا، تاہم قیدی کی حالت نازک ہونے کی وجہ سے قیدی کو جی بی پنت ہاسپٹل منتقل کردیا گیا۔ جہاں ڈاکٹروں نے اینڈو اسکوپی تکنیک کی مدد سے موبائل فون آپریشن کے بغیر نکال لیا۔ڈاکٹروں نے موبائل فون کے سائز کو پیمانے سے ناپا تو یہ تقریباً ساڑھے چھ انچ لمبا اور تین انچ چوڑا تھا۔ ملک کی سب سے محفوظ ترین سمجھے جانے والی تہاڑ جیل پھر موضوع بحث ہے۔
جیل کے ڈائریکٹر جنرل سندیپ گوئل نے بتایا کہ 5 جنوری 2022 کو تہاڑ جیل نمبر 1 کے ایک قیدی نے موبائل فون نگل لیاتھا، جب ہمارے عملے نے تلاش کے لیے اس سے رابطہ کیا تو اس کا انکشاف ہوا۔پولیس کے ڈائریکٹر جنرل نے کہا کہ واقعہ کے فوراً بعد قیدی کو پہلے دہلی کے دین دیال اپادھیائے اسپتال میں داخل کرایا گیا، لیکن قیدی کی حالت بگڑنے کے بعد اسے جی بی پنت اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے، جہاں ڈاکٹروں کی ٹیم نے قیدی کے پیٹ سے بغیر سرجری کے موبائل نکال لیا۔ سندیپ گوئل نے کہاکہ اب قیدی کی حالت ٹھیک ہے، ابھی تک یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ قیدی کے پاس موبائل فون کہاں سے آیاتھا؟ اس کی تفتیش کی جا رہی ہے۔