تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے متجاوز، یورپ میں صورتحال مستحکم

   

برسلز۔ 25 جولائی (ایجنسیز) ایران جنگ میں شدت کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافے کے باوجود جرمن ماہرین اقتصادیات کا کہنا ہے کہ یورپ میں تیل کی فراہمی فی الحال مستحکم ہے۔ جرمن انسٹی ٹیوٹ فار اکنامک ریسرچ (DIW) کی ماہر فرانزسکا ہولز نے خبر رساں ادارے ڈی پی اے کو بتایا کہ خام تیل اور اس سے تیار ہونے والی مصنوعات، جیسے پیٹرول اور ڈیزل، کی فراہمی اس وقت محفوظ ہے۔ تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ جیٹ فیول (ہوابازی کے ایندھن) کی فراہمی نسبتاً زیادہ دباؤ کا شکار ہے۔ ان کے مطابق جرمنی اور یورپ مختلف ممالک سے تیل درآمد کرتے ہیں، اس لیے کسی بڑے پیمانے پر سپلائی بحران کا فوری خدشہ نہیں۔ تاہم مشرق وسطیٰ اور آبنائے ہرمز کے گرد جاری کشیدگی کے باعث مستقبل قریب میں تیل کی قیمتوں میں کمی کی توقع بھی نہیں کی جا سکتی۔ ہولز نے کہا کہ خلیجی ممالک سے خام تیل، پیٹرول اور ڈیزل کی درآمدات جنگ سے پہلے بھی یورپ کی مجموعی ضروریات کا نسبتاً چھوٹا حصہ تھیں، لیکن چونکہ عالمی تیل کی منڈی ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہے، اس لیے قیمتوں میں اضافہ جرمنی سمیت پورے یورپ کو متاثر کر رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ جنگ کے آغاز کے بعد عالمی منڈی میں دستیاب تیل کی مقدار تقریباً 20 فیصد کم ہو چکی ہے، اسی لیے جرمنی اور یورپ میں پیٹرول اور ڈیزل کے محتاط استعمال کی ضرورت ہے۔
برینٹ خام تیل کی قیمت جمعرات کو 100 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔ امریکہ اور ایران کے درمیان حالیہ فوجی کشیدگی اور تازہ حملوں کے بعد برینٹ خام تیل کی قیمت میں 40 فیصد سے زیادہ اضافہ ہو چکا ہے۔