تیونس میں اپوزیشن کے احتجاجی مظاہروں پر پابندی

   

تیونیس : تیونس میں حزب اختلاف کے اتحاد نیشنل سالویشن فرنٹ نے صدر قیس سعید کے ناقدین کی حالیہ گرفتاریوں کے خلاف احتجاج کا منصوبہ بنایا تھا۔ ملک کی نیشنل ٹریڈ یونین فیڈریشن نے بھی اپنے مظاہرے کا ایک الگ منصوبہ تیار کیا ہے۔تیونس میں حکام نے دو مارچ جمعرات کے روز ملک کے مرکزی اپوزیشن اتحاد ‘نیشنل سالویشن فرنٹ’ (این ایس ایف) کے مجوزہ احتجاج پر پابندی عائد کر دی۔ تاہم اپوزیشن نے اتوار کے روز احتجاج کے لیے اپنے طے شدہ پروگرام پر عمل درآمد کا عزم ظاہر کیا ہے۔تیونس کے گورنر نے کہا کہ این ایس ایف نے اتوار کے روز مظاہرہ کرنے کی جو درخواست دی تھی اسے منظور نہیں کیا گیا کیونکہ اس کے کچھ رہنماؤں پر اس بات کا شبہ ہے کہ وہ ریاست کی سکیورٹی کے خلاف سازش کر رہے ہیں۔اپوزیشن اتحاد نیشنل سالویشن فرنٹ نے سیاسی گرفتاریوں نیز عوامی اور انفرادی آزادیوں کی خلاف ورزیوں کے خلاف اتوار کے روز احتجاج کرنے کا منصوبہ اعلان کیا ہے۔ حالیہ ہفتوں میں صدر قیس سعید کے تقریباً 20 ناقدین اور حریفوں کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔جن افراد کو گرفتار کیا گیا ہے، اس میں ایک بڑے میڈیا ادارے کے مالک اور ایک ممتاز کاروباری شخصیت بھی شامل ہیں۔ سن 2021 میں سعید کے اقتدار پر قبضہ کرنے یا زیادہ اختیار حاصل کرنے کے بعد سے مخالفین کے خلاف یہ سب سے بڑا کریک ڈاؤن قرار دیا جا رہا ہے۔