جاریہ ماہ کے اختتام تک شہر میں زور دار بارش کا امکان نہیں

   

آئندہ ماہ دو ہفتوں تک گرمی ، اضلاع میں توقع سے زیادہ بارش ریکارڈ
حیدرآباد۔24۔جون(سیاست نیوز) ریاست میں مانسون کی آمد ہوچکی ہے اور ابتدائی ایام میں چند ایک بارشوں کے بعد اب محکمہ موسمیات کی جانب سے جاری کی گئی پیش قیاسی کے مطابق جاریہ ماہ کے اختتام تک ریاست کے کسی بھی مقام پر موسلادھار بارش یا مسلسل بارش نہیں ہوگی۔ بتایاجاتا ہے کہ ریاست تلنگانہ میں ماہ جون کے اواخر تک بارش نہ ہونے کی مختلف وجوہات ہیں اور ان میں سب سے اہم وجہ ہواؤں کے رخ کے ساتھ بادلوں کا چھٹ جانا ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق ریاست تلنگانہ میں آئندہ ایک ہفتہ کے دوران موسم خشک رہے گا اور موسمی خشکی کے سبب ریاست میں چند یوم کے لئے گرمی کی شدت میں اضافہ ریکارڈ کیا جاسکتا ہے۔ ماہرین موسمیات کے مطابق آئندہ ایک ہفتہ کے دوران ریاست میں بارش بالکل نہیں ہوگی ایسا نہیں رہے گا بلکہ ریاست کے بعض اضلاع میں بارش کا سلسلہ جاری رہے گا لیکن موسلا دھار بارش کے کوئی امکانات نہیں ہیں۔ موسم باراں کے دوران بارش نہ ہونے کے سبب پیدا ہونے والی صورتحال کا تذکرہ کرتے ہوئے محکمہ موسمیات کے حکام نے بتایا کہ گرمی کی شدت میں بعض علاقو ں میں اضافہ ریکارڈ کیا جائے گا اور گرمی کی شدت کے ساتھ بعض اضلاع میں بارش کا بھی سلسلہ بھی جاری رہے گا۔ شہر حیدرآبا دمیں آئندہ ہفتہ کے دوران موسم کی صورتحال کے متعلق محکمہ موسمیات نے واضح پیش قیاسی کی ہے کہ آئندہ ہفتہ کے دوران شہر حیدرآباد و سکندرآباد کے علاوہ اطراف و اکناف کے علاقوں میں بھاری بارش کے کوئی امکانات نہیں ہیں اور نہ ہی مسلسل بارش کے کوئی آثار ہیں۔ گذشتہ برسوں کے دوران ماہ جون کے دوران شہر حیدرآباد میں بارش کے ریکارڈس کا جائزہ لیا جائے تو 22جون تک کئی برسوں سے شہر حیدرآباد میں مجموعی اعتبار سے 82.7 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی جاتی رہی ہے لیکن جاریہ سال 22جون تک بارش کی صورتحال کا جائزہ لیا جائے تو یہ بات سامنے آئی ہے کہ اب تک محض 63.4 ملی میٹر مجموعی بارش شہرحیدرآباد میں ریکارڈ کی گئی ہے۔محکمہ موسمیات کے مطابق بارش کی یہی صورتحال آئندہ ماہ کے ابتدائی 2ہفتوں کے دوران بھی رہنے کا امکان ہے اور کہا جار ہاہے کہ جاریہ سال مانسون کے اخری ایام کے دوران موسلادھار بارشوں کا امکان ہے ۔ بتایاجاتا ہے کہ ریاست تلنگانہ کے بعض اضلاع میں توقع سے زیادہ بارش ریکارڈ کی گئی ہے جبکہ بعض اضلاع میں بارش کافی کم ریکارڈ کی گئی ہے۔م