جامعہ ملیہ اسلامیہ کیلئے بیرونی فنڈ کی اجازت ختم

,

   

نئی دہلی : جامعہ ملیہ اسلامیہ اور درجنوں دیگر اداروں و غیر سرکاری تنظیموں ( این جی اوز ) کے لیے بیرون ملک سے مالی تعاون کے حصول کے لیے سرکاری اجازت اب ختم ہوچکی ہے۔ قانونِ باقاعدگی برائے بیرونی تعاون ( ایف سی آر اے ) کا لائسنس بیرون ملک سے فنڈ حاصل کرنے کے لیے درکار ہوتا ہے ۔ یہ لائسنس دائمی نوعیت کا نہیں ہوتا ۔ اسے مخصوص مدت کے بعد تجدید کراتے رہنا پڑتا ہے ۔ وزارت داخلہ نے ہفتہ کی صبح کہا کہ زائد از 12,000 این جی اوز اور دیگر اداروںکے ایف سی آر اے لائسنس کی مدت ختم ہوگئی ۔ چند روز قبل ہی مرکز نے مدر ٹریسا کے مشنریز آف چیاریٹی کے لیے لائسنس کی تجدید سے انکار کرتے ہوئے بتایا تھا کہ ان مشنریز کے بارے میں ’ منفی انکشافات ‘ ہوئے ہیں ۔ 18,778 آرگنائزیشنس جن کے فارن کنٹریبیوشن ( ریگولیشن ) ایکٹ کے لائسنس 29 ستمبر 2020 ء اور 31 دسمبر 2021 کے درمیان ختم ہونے والے تھے ، ان میں سے 12,989 نے تجدید کے لیے درخواست دی تھی ۔ 5,789 جن کے لائسنس گزشتہ روز غیر کارکرد ہوگئے ، ان کی طرف سے تجدید کی درخواستیں وصول نہیں ہوئیں اور ان کے ایف سی آر اے رجسٹریشن گزشتہ شب بے اثر ہوگئے ۔ حکومت کے مطابق جامعہ ملیہ اسلامیہ ان 5,789 میں شامل ہے ۔ وزارت کے عہدیداروں نے بتایا کہ جمعہ 31 دسمبر کی قطعی مہلت سے قبل درخواست داخل کردینے کے لیے یادداشت بھیجی گئی تھی لیکن 5,789 اداروں اور این جی اوز نے بے عملی کا مظاہرہ کیا ۔ چنانچہ ان کو بیرونی فنڈ بدستور حاصل کرنے کے لیے ایف سی آر اے اجازت کیوں کر دی جاسکتی ہے ؟ وزارت نے کہا کہ مدر ٹریسا کی چیاریٹی کے بشمول 179 دیگر کی درخواستیں مسترد کردی گئی ہیں اور دیگر درخواستوں کی تنقیح جاری ہے ۔۔