چیف منسٹر ‘ چیف سکریٹری و محکمہ اقلیتی بہبود کو رپورٹ روانہ کرنے صدر نشین وقف بورڈ کی ہدایت
حیدرآباد۔23۔جون(سیاست نیوز) جامعہ نظامیہ وقف اراضی واقع ’رائے درگ‘ سے متعلق ’روزنامہ سیاست‘ کے انکشاف پر صدرنشین وقف بورڈ جناب سید عظمت اللہ حسینی نے فوری جامعہ نظامیہ کی اس موقوفہ جائیداد سے متعلق تمام دستاویزات کا جائزہ لینے اور جامع رپورٹ تیار کرکے چیف منسٹر ریونت ریڈی ‘ چیف سیکریٹری تلنگانہ اور محکمہ اقلیتی بہبود کو فوری روانہ کرنے کی ہدایت دی ۔ بتایا گیا کہ ’رائے درگ وقف اراضی ‘سے متعلق تنازعہ کے اس موڑ کے ساتھ ہی محکمہ اقلیتی بہبود کے اعلیٰ عہدیدار بھی سرگرم ہوچکے ہیں اور وہ تلنگانہ وقف بورڈ عہدیداروں سے رپورٹ طلب کر رہے ہیں ۔ صدرنشین بورڈ جناب سید عظمت اللہ حسینی نے بتایا کہ وقف بورڈ کے پاس جب ’منتخب‘موجود ہے اور جائیداد ’کتاب الاوقاف‘ میں درج ہے تو اس پر کوئی شبہ کی گنجائش نہیں ہے ۔ انہو ںنے بتایا کہ محکمہ اقلیتی بہبود اور حکومت کو تفصیلی رپورٹ روانہ کرکے مذکورہ جائیداد کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے گا۔ بتایا جاتاہے کہ ’روزنامہ سیاست‘ میں اس خبر کی اشاعت کے ساتھ ہی تمام محکمہ جات میں ’رائے درگ ‘ موقوفہ اراضی موضوع بحث بنی ہوئی ہے۔محکمہ اقلیتی بہبود نے تلنگانہ وقف بورڈ سے اراضی کی مکمل تفصیلات طلب کی ہیں۔رکن وقف بورڈ مولانا سید شاہ علی اکبر نظام الدین حسینی صابری نے جامعہ نظامیہ کی موقوفہ اراضی پر کہا کہ تمام دستاویزات کے حصول اور قانونی رائے مشورہ کے بعد جدوجہد اور حکومت سے نمائندگیوں کے بعد ہی مذکورہ جائیداد کو ’کتاب الاوقاف‘ میں درج کرکے ’منتخب‘ کی اجرائی عمل میں لائی گئی ہے ۔مولانا سید ابوالفتح بندگی باشاہ نے ’جامعہ ‘ نظامیہ کی موقوفہ جائیداد کے ہراج کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے سی ای او وقف بورڈ کو مکتوب روانہ کیا اور فوری بورڈ کا اجلاس منعقد کرنے کا مطالبہ کیا ۔علاوہ ازیں انہوں نے بتایا کہ جامعہ نظامیہ کی اس جائیداد کو وقف بورڈ نے UMEED پورٹل میں درج کیا ہے اور نئے قوانین وقف کے مطابق پورٹل پر درج جائیدادوں کو منظور کئے جانے کے بعد اس کے سرکاری یا کسی اور کی قرار دیئے جانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ذرائع کے مطابق وقف بورڈ نے ’جامعہ نظامیہ ‘ ذمہ داروں سے بھی موقوفہ جائیداد کے متعلق تمام دستاویزات طلب کی ہیں۔3