17 ستمبر کی تاریخی جدوجہد کو کانگریس، بی جے پی سیاسی مفادات کیلئے استعمال کررہی ہے ، کویتا کا الزام
نظام آباد 17؍ ستمبر (سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) تلنگانہ رِکشا سینا کی سربراہ کے کویتا نے کہا کہ تلنگانہ کی مسلح کسان جدوجہد کے مجاہدین کے جذبے سے تحریک حاصل کرتے ہوئے ریاست میں عوام دشمن عناصرکی طاقتوں کے خلاف جدوجہد کی جائے گی۔ تلنگانہ انضمام کے موقع پر واقع پارٹی دفتر میں قومی پرچم لہرانے کے بعد خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 17 ستمبر تلنگانہ کے عوام کی بہادری، جدوجہد کے جذبے اور مجاہدین آزادی کی قربانیوں کی تاریخ کی علامت ہے۔ انہوں نے کہا کہ جاگیرداروں اور زمینداروں کے ظلم و ستم کے خلاف اس سرزمین پر ہونے والی عظیم جدوجہد کی یاد تازہ کرنے کا دن تلنگانہ انضمام دن ہے۔ کویتا نے الزام عائد کیا کہ کانگریس اور بی جے پی اپنی سیاسی مفادات کے لیے 17 ستمبر کی جدوجہد کی تاریخ کو غلط انداز میں پیش کر رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عوام نے خود اپنے اوپر ہونے والے مظالم کے خلاف ڈٹ کر مقابلہ کیا تھا، جبکہ ان دونوں سیاسی جماعتوں کا اس جدوجہد میں کوئی کردار نہیں تھا۔ انہوں نے کہا کہ جہاں کانگریس پارٹی کے قائدین یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ تلنگانہ کی مسلح کسان جدوجہد اسٹیٹ کانگریس کی وجہ سے ہوئی، وہیں بی جے پی اسے ایک مسلم حکمران کے خلاف ہندوؤں کی مذہبی جنگ کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس مسلح کسان جدوجہد میں دونوں جماعتوں کا کوئی کردار نہیں تھا۔ انہوں آنے کہا کہ جس وقت یہ جدوجہد جاری تھی، اس وقت بی جے پی اور آر ایس ایس کا کوئی وجود یا اثر و رسوخ نہیں تھا، اس کے باوجود بی جے پی 17 ستمبر کو یوم آزادی یا یوم نجات کے طور پر پیش کرکے عوام کو اشتعال دلانے کی کوشش کر رہی ہے۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ اس مبینہ غلط پروپیگنڈے کی مذمت کریں۔ کویتا نے مزید الزام عائد کیا کہ کانگریس نے اس جدوجہد میں حصہ لینے کے بجائے تلنگانہ کے ہندوستان میں انضمام کے بعد غریبوں میں تقسیم کی گئی تقریباً دس لاکھ ایکڑ اراضی دوبارہ زمینداروں کے حوالے کردی۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس کی حقیقی پالیسی غریبوں کو زمین فراہم کرنا نہیں بلکہ ان سے زمین چھیننا رہی ہے۔کویتا نے کہا کہ زمینداروں اور جاگیرداروں کی جانب سے عوام پر کیے جانے والے مظالم، ناانصافیوں، زیادتیوں اور قتل و غارت کے خلاف عوام نے خود بغاوت کی اور مسلح جدوجہد کی، جس میں کانگریس اور بی جے پی کا کوئی کردار نہیں تھا۔ انہوں نے کہا کہ اس جدوجہد میں ہندوؤں اور مسلمانوں نے متحد ہوکر حصہ لیا۔ عوام میں جدوجہد کا شعور پیدا کرنے کے لیے کئی دہائیوں تک متعدد دانشوروں نے اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ وٹیکوٹہ الور سوامی، سورورم پرتاپ ریڈی اور راوی نارائن ریڈی جیسے دانشوروں نے دیہات کا دورہ کرتے ہوئے عوام میں تعلیم اور شعور بیدار کیا اور آندھرا مہاسبھا کے ذریعے عوام کو منظم کیا۔ اسی دوران کالوجی، داشرتھی، شعیب اللہ خان اور مخدوم محی الدین جیسے عظیم شخصیات کی ادبی اور سماجی خدمات نے بھی عوام میں بیداری اور جدوجہد کا جذبہ پیدا کیا۔ اسی شعور سے دودی کوموریا، چاکلی ایلمّا اور شیخ بندگی جیسے بہادر مجاہدین پیدا ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ ملو سواراجیم اور اروٹلا کملا دیوی جیسی عظیم خواتین کی جدوجہد کے نتیجے میں عوام نے خود ہتھیار اٹھائے، جتھے تشکیل دیے اور اپنی حفاظت خود کی۔ کویتا نے کہا کہ تلنگانہ کے عوام کو بخوبی معلوم ہے کہ انہیں اپنے حقوق اور اپنی حفاظت کے لیے کس طرح جدوجہد کرنی ہے۔