نیویارک: انسانی حقوق کے علمبردار ملک امریکہ میں ایک ایسا دور بھی تھا جب خواتین کے کردار پر شک کرتے ہوئے انہیں حراست میں لیا جاتا، زبردستی طبی معائنہ کیا جاتا اور انہیں قید میں رکھا جاتا۔امریکی ویب سائٹ ہسٹری ڈاٹ کام کے مطابق امریکی تاریخ میں خواتین پر زبردستی اور جبر کا یہ مخصوص دور نصف صدی سے زیادہ عرصے پر محیط تھا۔ امریکی حکومت نے 1910 کی دہائی میں پہلی جنگ عظیم کے دوران ’امریکی پلان‘ متعارف کروایا تھا جس کے تحت ہزاروں کی تعداد میں خواتین کو حراست میں لیا گیا۔یہ پلان کچھ ریاستوں میں 1950 کی دہائی تک نافذالعمل رہا جبکہ کچھ جگہوں پر 1960 اور 1970 کی دہائی تک چلتا رہا۔اس پلان کا مقصد خواتین کو گرفتار کر کے فوجیوں میں پھیلی ہوئی جنسی بیماریوں پر قابو پانا تھا۔سنہ 1917 میں وفاقی افسران حیران اور خوفزدہ ہو کر رہ گئے تھے جب انہیں معلوم ہوا کہ امریکی فوج میں اہلکاروں کی ایک بڑی تعداد جنسی تعلقات سے پھیلنے والی بیماریوں گونوریا یا سیفیلس سے متاثر ہیں۔یہ بیماریاں نہ صرف فوجیوں کی صحت بلکہ قومی سلامتی کے لیے بھی ایک بڑا خطرہ تھیں۔اس مسئلے کا حل نکالنے کے لیے ایک قانون نافذ کیا گیا جس کے تحت ملک بھر میں قائم فوجی تربیتی کیمپوں کے اطراف میں پانچ میل تک جسم فروشی کو ممنوع قرار دیا گیا۔ اور اس علاقے کو ’مورل‘ یعنی ’اخلاقی زون‘ قرار دیا گیا۔لیکن جب وفاقی عہدیداروں کو معلوم ہوا کہ اکثر فوجی اہلکار تو جنسی طور پر منتقل ہونے والی بیماریوں (ایس ٹی آئی) سے دوران چھٹی اپنے آبائی شہروں میں متاثر ہوئے تو انہوں نے قانون کا دائرہ کار پورے ملک تک بڑھا دیا۔اور جب انہیں یہ معلوم ہوا کہ مردوں میں جراثیم پھیلانے والی اکثر خواتین پیشہ وارانہ طور پر جسم فروش نہیں ہیں تو انہوں نے امریکی پلان کا دائرہ کار مزید وسیع کر دیا۔