سپریم کورٹ کالجیم کے طریقہ کار پر اعتراض، غیر موزوں افراد کے عدلیہ میں داخلہ کو روکنے کی ضرورت
حیدرآباد۔ 2 اگست (سیاست نیوز) سپریم کورٹ کے سینئر جج جسٹس اجل بھویاں نے ججس کے تقررات سے متعلق سپریم کورٹ کالجیم کے طریقہ کار پر سخت اعتراض کیا۔ عدلیہ میں اصلاحات کے موضوع پر پیانل ڈسکشن میں حصہ لیتے ہوئے جسٹس اجل بھویاں نے کہا کہ ججس کے تقررات کے سلسلہ میں کالجیم کی جانب سے کوئی وجہ بیان نہیں کی جارہی ہے جس کے نتیجہ میں غیر مستحق افراد کے ججس کے عہدے پر فائز ہونے کے امکانات بڑھ چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تقررات کے سلسلہ میں کالجیم کو وضاحت کرنی چاہئے کہ کن بنیادوں پر ججس کے عہدے کے لئے ناموں کی سفارش کی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ غیر مستحق افراد کے تقرر کے نتیجہ میں ججس کے ذریعہ کئی غیر دستوری ریمارکس منظر عام پر آرہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر یہی سلسلہ جاری رہا تو آئندہ کوئی بھی جج عوام کو ’’چیونٹی‘‘ قرار دے سکتا ہے۔ جسٹس بھویاں نے کہا کہ وہ کالجیم کی گزشتہ 3 قراردادوں کا جائزہ لے چکے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ کالجیم کی قراردادوں میں کوئی وضاحت نہیں کی گئی جس کے نتیجہ میں تقررات میں شفافیت ختم ہوسکتی ہے۔ جسٹس اجل بھویاں کا ماننا ہے کہ ججس کے طور پر ترقی کی وجوہات بیان نہ کرنے کی صورت میں غیر معقول امیدواروں کے عدلیہ میں داخلے کی راہ ہموار ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ غیر موزوں افراد کے ججس بنائے جانے سے غیر دستوری ریمارکس کا خطرہ برقرار رہتا ہے۔ ایسے افراد کے داخلے کو روکنے کے لئے کالجیم میں کسی قدر مباحث ہونے چاہئیں اور وجوہات کا جائزہ لیا جائے۔ جسٹس بھویاں نے حال ہی میں ہائی کورٹ ایک جج کے ریمارک کا حوالہ دیا۔ واضح رہے کہ الہ آباد ہائی کورٹ کے ایک جج نے وشواہندو پریشد کے پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے اپوزیشن کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔ جسٹس بھویاں نے کہا کہ ملک میں ہمیں تعلیم دی گئی ہے کہ کسی چھوٹے سے چھوٹے جانور کو بھی نقصان نہ پہنچائیں اور چیونٹی کو بھی مارنے کی اجازت نہیں ہے۔ جسٹس اجل بھویاں نے کہا کہ سپریم کورٹ کالجیم کے تین بیانات میں ججس کے طور پر ترقی کے لئے کوئی وجوہات بیان نہیں کی گئی ہیں۔ اس طرح کی کارروائی کو کاپی پیسٹ کہا جاسکتا ہے لہذا ججس کے طور پر ترقی کے لئے کچھ تو وجوہات بیان کی جانی چاہئے۔ جسٹس بھویاں کی جانب سے سپریم کورٹ کالجیم کے طریقہ کار پر اعتراض نے عدلیہ کے بارے میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ واضح رہے کہ چیف جسٹس سوریہ کانت نے حال ہی میں ملک کے بے روزگار نوجوانوں کو کاکروچ قرار دیا تھا جس کے بعد کاکروچ جنتا پارٹی وجود میں آئی۔ 1؍F