جرمنی اب بھی دہشت گرد تنظیموں کے نشانے پر

   

برلن : جرائم کی تحقیقات کرنے والے جرمن ادارے کے ایک اعلیٰ اہلکار کے مطابق ’اسلامک اسٹیٹ‘ کبھی بھی غائب یا غیر فعال نہیں ہوئی۔ جرمن حکام کے مطابق انہیں ’اسلامک اسٹیٹ‘ صوبہ خراسان کی طرف سے بڑھتے ہوئے خطرات کا سامنا ہے۔ جرائم کی تحقیقات کرنے والے وفاقی جرمن دفتر ( بی کے اے) کے مطابق جرمنی مختلف دہشت گرد تنظیموں کے لیے اب بھی ایک بڑا ہدف ہے۔ اس ادارے میں اسلامی مذہبی بنیادوں پر دہشت گردی اور شدت پسندی پر توجہ مرکوز رکھنے والے ذیلی شعبہ کے سربراہ سوین کورین باخ نے جرمن اخبار زوڈ ڈوئچے سائٹنگ میں شائع ہونے والے اپنے ایک تبصرے میں لکھا کہ دہشت گرد تنظیم ’’اسلامک اسٹیٹ‘‘ حقیقی معنوں میں غائب یا غیر فعال تو کبھی ہوئی ہی نہیں تھی۔ کورین باخ نے کہا کہ جرمن حکام گزشتہ دو سالوں سے اسلامک اسٹیٹ کی ایک شاخ اسلامک اسٹیٹ صوبہ خراسان (ISKP) کی جانب سے بڑھتے ہوئے خطرات کا اندراج کر رہے ہیں۔ یہ دہشت گرد تنظیم تیزی سے بین الاقوامی ایجنڈے پر عمل پیرا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یوکرین کے خلاف جاری روس کی جنگ نے جرمنی کی مشرقی سرحد کو مزید قابل رسائی بنا دیا ہے، جس کے سبب وسطی ایشیا سے تعلق رکھنے والے اور آئی ایس کے پی سے روابط والے مشکوک افراد ملک میں داخل ہو رہے ہیں۔