چندی گڑھ: پنجاب یونیورسٹی کے شعبہ بشریات اور انسٹی ٹیوٹ آف فورنسک سائنسز کے محققین نے مصنوعی ذہانت پر مبنی ایک ماڈل تیار کیا ہے جو جعلی دستخطوں کی شناخت کر سکتا ہے ۔چہارشنبہ کو یونیورسٹی کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان کے مطابق ہندوستانی کاپی رائٹ آفس نے اس اے آئی ماڈل کو کاپی رائٹ دے دیا ہے اور اب اسے اہم دستاویزات پر جعلی دستخطوں میں شامل دھوکہ دہی کا پتہ لگانے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے ۔ اے آئی ماڈل کو فورنسک سائنس کے ماہر پروفیسر کیول کرشنا اور ان کی ریسرچ ٹیم نے بنایا ہے ۔ اے آئی ماڈل مشین لرننگ الگورتھم سپورٹ ویکٹر مشین (ایس وی ایم) پر مبنی ہے جو اصلی اور جعلی دستخطوں میں فرق کر سکتا ہے ۔ ماڈل پر 1400 دستخطوں (700 اصلی اور 700 جعلی) کی جانچ کے بعد نتائج میں 90 فیصد درستگی پائی گئی۔ اس اے آئی ماڈل مختلف فارموں، چیکوں، بینک دستاویزات، پراپرٹی رجسٹری دستاویزات وغیرہ پر دستخط کی جعلسازی کے معاملات میں فورنسک تحقیقات اور مجرمانہ تفتیش میں مدد ملے گی۔