سی پی آئی سکریٹری کی درخواست پر فیصلہ، 20 جنوری کو حکومت جواب داخل کرے گی
حیدرآباد۔12۔ جنوری (سیاست نیوز) آندھراپردیش ہائیکورٹ نے عوامی مقامات اور سڑکوں پر عام جلسوں اور ریالیوں پر تحدیدات سے متعلق حکومت کے جی او نمبر 1 کو 23 جنوری تک معطل کردیا ہے۔ حکومت نے نئے احکامات جاری کرتے ہوئے سیاسی پارٹیوں کو پابند کیا کہ وہ سڑکوں پر ریالی یا جلسوں کے انعقاد کیلئے حکام سے قبل از وقت اجازت حاصل کرلیں۔ سی پی آئی کے ریاستی سکریٹری رام کرشنا نے جی او نمبر 1 کو چیلنج کرتے ہوئے ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی تھی ۔ عدالت نے آج درخواست کی سماعت کے بعد عبوری احکامات جاری کئے جس کے تحت جی او پر عمل آوری کو 23 جنوری تک معطل کردیا گیا۔ درخواست گزار کے وکیل نے جی او نمبر1 کو مستقل طور پر کالعدم قرار دینے کی اپیل کی۔ فریقین کی جانب سے دلائل پیش کئے گئے اور درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ اپوزیشن جماعتوں کی آواز کچلنے کی سازش کے تحت جی او جاری کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کے احکامات قانون کے مطابق نہیں ہے۔ ہائی کورٹ کے ڈیویژن بنچ نے حکومت کو حلفنامہ داخل کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے آئندہ سماعت 20 جنوری کو مقرر کی ہے ۔ واضح رہے کہ صدر تلگو دیشم چندرا بابو نائیڈو کے اضلاع میں روڈ شو کے موقع پر دو مقامات پر بھگدڑ کے نتیجہ میں اموات واقع ہوئی۔ ان واقعات کے بعد حکومت نے جی او نمبر 1 جاری کیا جس کے تحت سڑکوں پر جلسوں اور ریالیوں کے انعقاد پر پابندی عائد کی گئی۔آندھراپردیش کی تمام اپوزیشن جماعتوں نے حکومت کے احکامات کی مخالفت کی تھی۔ ہائی کورٹ کے تازہ ترین احکامات سے اپوزیشن کو راحت ملی ہے۔ر