جلوسِ محمدیؐ18 ستمبر کو منانے کا فیصلہ قابل ستائش: ممبئی پولیس

   

ممبئی: گنیش وسرجن اننت چتر دشی اور عید میلاد النبی کیلئے ممبئی پولیس پوری طرح سے مستعد اور تیارہے مسلمانوں نے جو بھائی چارگی اور قومی یکجہتی کا ثبوت دیا ہے وہ قابل ستائش ہے مسلمانوں کے اس جذبہ کے سبب فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو تقویت ملی ہے ممبئی پولیس کمشنر وویک پھنسلکر نے یہاں ممبئی میں خلافت ہاؤس اور شہر و مضافاتی علاقوں میں 16 ستمبر کے جلوس کو 18 ستمبر تک ملتوی کرنے کے فیصلہ کو ہندو مسلم ایکتا کی مثال قرار دی ہے ۔ممبئی پولیس کمشنر وویک پھنسلکر نے جہاں کا انصاف نامی نیوز پورٹل کی خاص ملاقات میں کہا کہ مہاراشٹر اور ممبئی میں گنیش اتسو انتہائی جوش و خروش کے ساتھ منایا جاتا ہے دوسری طرف عید میلاد النبی بھی گنیش اتسو کے ساتھ ہی ہے جبکہ مسلمانوں نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ وہ عید میلاد النبی کا جلوس 16 ستمبر کے بجائے 18ستمبر کو نکالیں گے یہ فیصلہ اطمینان بخش کیونکہ 16ستمبر سے ہی گنیش وسرجن کی تیاری شروع ہوجاتی ہے اس دوران دونوں جلوس کیلئے انتظامات کرنا مشکل ترین امر تھا لیکن اب پولیس کو ایک ساتھ تین دنوں تک حفاظتی انتظامات پر مامور رہنا ہوگا کیونکہ گنپتی وسرجن سے قبل اور عید میلاد النبی کے جلوس کے اختتام یعنی 19 ستمبر تک ڈیوٹی انجام دیناہوگی یہ عمل انتہائی مشکل اور تھکاؤٹ سے پر ہے لیکن اس کے لئے بھی ہماری پولیس ٹیمیں تیار ہے ۔وویک پھنسلکر نے بتایا کہ ممبئی شہر میں نظم و نسق کی برقراری ترجیحات میں شامل ہے اگر کوئی گنپتی وسرجن اور عید میلاد النبی کے جلوس میں گڑ بڑی پیدا کر نے یا شرانگیزی یاشرپسندی کرتا ہے تو اسکے خلاف بھی کارروائی ہوگی انہوں نے کہا کہ ممبئی میں ہندو اور مسلمان ایک دوسرے کے تہواروں میں شریک ہوتے ہیں اگر کوئی کسی کا تہوارپسند نہیں کرتا ہے تو اس میں اسے گڑ بڑ پیدا کرنے کی بھی قطعی اجازت نہیں ہے۔
اگر کوئی نظم و نسق کیلئے مسئلہ پیداکرتا ہے تو اس پر کارروائی ہوگی انہوں نے کہا کہ ممبئی شہر میں تمام اعلی افسران 32 ڈی سی پی, 45 اے سی پی, فساد مخالف دستہ,ہوم گارڈ, ریزرو پولیس فورسیز کی کمپنیوں کوبھی تعینات کیا گیا ہے ۔ ممبئی پولیس کمشنروویک پھنسلکر نے کہاکہ ممبئی کے مسلم اکثریتی علاقوں میں لال باغ کا راجہ کااستقبال کیاجاتا ہے یہ قدیم روایت کا ایک حصہ بھی ہے لیکن کچھ شرپسند عناصر اس میں بھی گڑ بڑی پیدا کرنے کی کوشش کر تے ہیں ماضی میں یہاں کچھ نوجوان نے شر انگیزی کی تھی جس پر کارروائی کی گئی ہے اس قسم کی حرکت نہ ہو اس پر بزرگوں اور ذمہ دار شہریوں و والدین کو خاص نظر رکھنا چاہئے ۔ وویک پھنسلکر نے کہا کہ فرقہ وارانہ ہم آہنگی کیلئے ضروری ہے کہ ہم ایک دوسرے کے تہواروں اور مذہب کا احترام کر ے ہمیں آزاد رائے کی آزادی ضرور ہے لیکن ہم اس کی آڑ میں کسی کے بھی مذہبی جذات مجروح نہیں کرسکتے اگر کوئی مذہبی منافرت پھیلاتا ہے تو اس پر کارروائی ہوگی۔بقول ممبئی پولیس کمشنر توہین رسالت کے معاملہ میں پولیس نے کارروائی کی ہے اگر کوئی مذہبی جذبات دو فرقوں میں نفرت پیدا کرنے کی کوشش کرتا ہے تو پولیس اس پر سخت کارروائی کریگی۔ انہوں نے کہا کہ شرپسندوں کے خلاف پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے انہیں نوٹس بھی ارسال کی ہے اس کے ساتھ ہی ماضی میں جو اس قسم کے معاملات میں ملوث پائے گئے تھے اس کو بھی نوٹس دی گئی ہے ۔ممبئی پولیس کمشنر وویک پھنسلکر نے کہا کہ پولس اہلکاروں کو بھی جذبات ہوتے ہیں لیکن ڈیوٹی کے دوران انہیں وردھی میں رقص کر نے کی اجازت نہیں ہے کیونکہ وردھی کا احترام لازمی ہے ۔ممبئی شہر میں نظم ونسق کی برقراری کیلئے پولیس نے پختہ انتظامات کا دعوی بھی کیا ہے ۔