ہائیکورٹ کے احکام پر کارروائی ۔ غیر مجاز تعمیرات کا الزام ۔ مقامی عوام میں بے چینی
حیدرآباد۔19۔جون(سیاست نیوز) نواحی علاقہ جل پلی میں تالاب کے ایف ٹی ایل کی نشاندہی کا عمل عدالت کے احکام پر مکمل کیاگیا جس پر علاقہ کے مکینوں میں اپنی جائیدادوں کے متعلق خدشات پیدا ہوگئے ہیں۔ تلنگانہ ہائی کورٹ سے جاری احکامات کے مطابق محکمہ آبپاشی اور محکمہ مال کے حکام کی نگرانی میں جل پلی تالاب کی مکمل سطح آب کی نشاندہی کرکے تالاب کے اطراف تعمیرات پر نشان لگائے گئے اور اس دوران مقامی عوام نے عہدیداروں سے استفسار کیا کہ یہ نشاندہی کیوں کی جا رہی ہے جس پر سروے حکام نے بتایا کہ ہائی کورٹ میں درخواست مفاد عامہ کے تحت جاری احکام کے مطابق ایف ٹی ایل کی نشاندہی کرکے عدالت میں رپورٹ پیش کی جائے گی اور اس کا جائزہ لینے کے بعد عدالت جو احکام دے گی اس کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔جل پلی تالاب جو کہ 274ایکڑ پر محیط تھا اس میں تعمیری ملبہ ڈال کر تالاب کے بڑے حصہ کو مسطح کردیا گیا تھا اور تالاب کے شکم میں اراضیات کی فروخت کی شکایات تھیں لیکن متعلقہ محکمہ جات سے کسی بھی طرح کی کاروائی نہ کئے جانے پر عدالت سے رجوع ہوکر جل پلی تالاب کے تحفظ کیلئے درخواست داخل کی گئی تھی جس پر ہائی کورٹ نے احکام جاری کرکے تالاب کی مکمل سطح آب کی نشاندہی کی ہدایت دی تھی جس پر گذشتہ کل تالاب میں تعمیر کئی مکانات پر محکمہ آبپاشی اور محکمہ مال کے عہدیداروں نے نشان لگائے ۔ اس اقدام سے جل پلی کے مکینوں میں خوف و ہراس کی لہر پیدا ہوچکی ہے کیونکہ تالاب میں تعمیرات کے خلاف ’حیدرا‘ کی نگرانی میں کاروائیوں اور بلڈوزر چلانے کے واقعات سے عوام میں تشویش ہے۔ بتایاجاتا ہے کہ تالاب کو مسطح کرکے کی گئیں تعمیرات کے خلاف جامع رپورٹ کی تیاری کے بعد عدالتی احکامات کے مطابق کارروائی کرکے جل پلی تالاب کے احیاء کی کوشش کا امکان ہے ۔عہدیداروں کا کہناہے کہ رپورٹ کی تیاری کے بعد اعلیٰ عہدیداروں سے مشاورت کے بعد کارروائی کے متعلق فیصلہ کیا جائے گا کیونکہ تالاب میں کئی ایکڑ پر تعمیرات کی جاچکی ہیں۔3