سری نگر: جموں وکشمیر نیشنل کانفرنس کے رکن پارلیمان جسٹس (ر) حسنین مسعودی نے پارلیمنٹ میں اپنے خطاب کے دوران جموں وکشمیر کے عوام کو جمہوری حقوق سے محروم رکھنے ، آئین کو تہس نہس کرکے خصوصی پوزیشن ختم کرنے ، امن و قانون کی صورتحال کو بگاڑنے ، حدبندی کمیشن کے ذریعے کشمیر کے لوگوں کو بے اختیار کرنے ،ملازمین کے تئیں حکومت کے رویہ اور عارضی ملازمین کی مستقلی کے علاوہ دیگر معاملات اُٹھائے ۔ جموں و کشمیر کے بجٹ پر بولتے ہوئے حسنین مسعودی نے کہا کہ یہ مسلسل چوتھا بجٹ ہے جو جمو ں وکشمیر کی اسمبلی کے بجائے پارلیمنٹ میں پیش ہورہاہے ۔اور یہ بذات خود ایک سوال ہے کہ ڈیڑھ کروڑ کی آبادی اتنی مدت سے کسی نمائندگی کے بغیر کیوں ہے ؟وہاں اسمبلی کیوں نہیں ہے ، جو اسمبلی خود فیصلہ کرتی کہ وہاں کے لوگوں کی ضروریات کیا ہیں،وہاں کے لوگوں کے توقعات کیا ہیں اور کتنے رقومات مختص ہونے چاہئیں۔ مسعودی نے کہا کہ ہم نے 5 اگست 2019 کے فیصلوں کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا اور سپریم کورٹ نے کہا کہ آپ کے اعتراضات میں دم ہے اور اسے ایک آئینی بنچ کے سپرد کردیا ۔ ہر ایک جمہوریت میں یہ اصول ہے کہ اگر کوئی معاملہ زیر سماعت ہے ، اس پر کسی بھی پیش رفت سے پہلے سپریم کورٹ کے فیصلے کا انتظار کرنا چاہئے لیکن یہاں اصولوں کو روندا جارہاہے اور سپریم کورٹ کے حتمی فیصلے سے پہلے ہی اپنا فیصلے تھوپا جارہاہے ۔ انہوں نے بتایا کہ آپ صرف جموں وکشمیر کے عوام سے ہی حقوق نہیں چھین رہے ہیں بلکہ آپ آئین کو روند رہے ہیں اور سپریم کورٹ کی توہین کررہے ہیں۔آپ ایسے قانون کے تحت جموں وکشمیر کی حدبندی کررہے ہیں جس کی جوازیت سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہے اور اس حدبندی کے ذریعے کشمیر کے لوگوں کو بے اختیار کیا جارہا ہے ۔