سری نگر : پیپلز الائنس فار گپکار ڈیکلریشن (پی اے جی ڈی) کا الزام ہے کہ مرکزی حکومت کی طرف سے جموں وکشمیر کے لوگوں کو تمام طرح کی آزادیوں یہاں تک کہ سانس لینے کی آزادی سے بھی محروم کیا جا رہا ہے ۔ الائنس کے ترجمان محمد یوسف تریکامی نے ہفتے کے روز ڈاکٹر فاروق عبداللہ کی رہائش گاہ پر منعقدہ پی اے جی ڈی کی میٹنگ کے بعد ایک پریس کانفرنس سے خطاب کے دوران کہا کہ جموں وکشمیر کے لوگوں اور یہاں کی تمام سیاسی پارٹیوں کو ایک ہو کر ان کے بقول مرکزی حکومت کے موجودہ حملوں کے خلاف آواز بلند کرنے کا وقت آگیا ہے ۔ اس موقع پر پی اے جی ڈی کے سرپرست ڈاکٹر فاروق عبداللہ، پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی، عوامی نیشنل کانفرنس کے سینئر نائب صدر مظفر شاہ و دیگر ارکان موجود تھے ۔ تریکامی نے کہا کہ ڈاکٹر فاروق عبداللہ کی قیادت میں پی اے جی ڈی کی میٹنگ ہوئی جس میں جموں و کشمیر کی موجودہ صورتحال کا جائزہ لیا گیا ہماری نظر میں جب سے ہمارے آئینی حقوق پر حملہ کیا گیا تب سے لے کر آج تک افسوس ناک صورتحال ہے ہمارے لوگوں کے لئے سانسیں لینا بھی مشکل بن رہا ہے ۔ان کا کہنا تھا کہ جو بھی ہمارے آئینی حقوق ہماری آزادیاں جیسے آزادی اظہار، آزادی پریس بلکہ زندہ رہنے کی آزادی کو بھی دبایا گیا۔ تریکامی نے کہا کہ جموں وکشمیر کے لوگوں اور سیاسی جماعتوں کے لئے وقت آگیا ہے کہ وہ ایک ہو کر ان کے بقول دلی کے ان حملوں کے خلاف آواز بلند کریں۔انہوں نے کہا کہ ہر پولیس اسٹیشن کے باہر والدین کو اپنے بچوں سے ملنے کے انتظار میں بیٹھے دیکھا جا رہا ہے اور اب باہر کے جیلوں میں کشمیریوں کو رکھنے کے لئے جگہ نہیں رہی ہے ۔