جمہوری حقوق کیلئے عوام سڑکوں پر اُترنے مجبور ، ایمرجنسی کی یاد تازہ

   

حکومت عوام کی آواز سننے کیلئے تیار نہیں ، وزیراعظم کو کرسی پر برقرار رہنے کا اخلاقی حق نہیں : طاہر بن حمدان
نرمل ۔10 اکتوبر ۔ ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز ) نوٹ چور، ووٹ چور اور کرسی چور وزیرِ اعظم کو ایک لمحہ بھی اقتدار کی کرسی پر بیٹھنے کا اخلاقی حق نہیں ہے۔ اسی طرح الیکشن کمیشن آف انڈیا (ای سی آئی) کے عہدیدار بھی اپنی ذمہ داریوں سے بری نہیں ہوسکتے، جن پر ملک کے عوام کو ان کے جمہوری حقِ رائے دہی سے محروم کرنے کے سنگین الزامات عائد کیے جارہے ہیں۔ ملک بھر میں مبینہ طور پر تیرہ کروڑ ووٹوں کو منظم انداز میں حذف کیے جانے کا معاملہ جمہوریت کے لیے ایک بڑا سوالیہ نشان بن گیا ہے۔ ان خیالات کا اظہار تلنگانہ اردو اکیڈیمی کے چیئرمین اور نرمل ضلع کے ایس آئی آر کوآرڈینیٹر جناب طاہر بن حمدان نے دفترِ سیاست نرمل میں اسٹاف رپورٹر سید جلیل ازہر کو دیے گئے خصوصی انٹرویو میں کیا۔جناب طاہر بن حمدان نے کہا کہ آج ملک کا نوجوان اپنے جائز مطالبات اور جمہوری حقوق کے تحفظ کے لیے سڑکوں پر اُترنے پر مجبور ہے، لیکن حکومت عوام کی آواز سننے کے بجائے ایسے حالات پیدا کررہی ہے جو ایمرجنسی کے دور کی یاد تازہ کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ووٹر لسٹ سے کسی شہری کے نام کو حذف کردینا محض ایک اندراج ختم کرنا نہیں، بلکہ اسے اس کے بنیادی جمہوری حق سے محروم کرنے کے مترادف ہے۔ جس طرح انسانی جسم سے روح نکال دی جائے تو جسم بے جان ہوجاتا ہے، اسی طرح حقِ رائے دہی چھین لینے سے شہری کی جمہوری حیثیت متاثر ہوتی ہے۔انہوں نے بی جے پی کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ پارٹی اپنے آغاز ہی سے ہندو مسلم اور مندر مسجد کے نام پر سماج میں نفرت کی فضا پیدا کرتی رہی ہے۔ اب ووٹوں کی مبینہ چوری کے ذریعہ اقتدار پر قابض رہنے کے لیے مختلف حربے استعمال کیے جانے کے الزامات سامنے آرہے ہیں، جو جمہوری نظام کے لیے نہایت تشویش ناک ہیں۔ طاہر بن حمدان نے واضح کیا کہ کانگریس سمیت تمام اپوزیشن جماعتیں چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفیٰ کے مطالبے پر اپنا احتجاج جاری رکھیں گی۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ووٹر لسٹوں میں مبینہ بے ضابطگیوں کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کروائی جائیں اور ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔ ساتھ ہی آئندہ انتخابات بیلٹ پیپر کے ذریعہ منعقد کرنے کا بھی مطالبہ کیا، تاکہ عوام کے اعتماد کو بحال کیا جاسکے اور انتخابی عمل کی شفافیت کو یقینی بنایا جاسکے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جمہوریت میں عوام کی رائے ہی اصل طاقت ہوتی ہے۔ اگر اسی طاقت کو کمزور کرنے کی کوشش کی جائے تو اس کے خلاف آواز اٹھانا ہر باشعور شہری کی ذمہ داری ہے۔ ملک کی تمام جمہوری قوتوں کو متحد ہوکر عوام کے حقِ رائے دہی کے تحفظ اور انتخابی نظام میں شفافیت کے لئے آواز اُٹھانی چاہئے ۔